asgher ali shad 2

بھارتی فوج ۔۔۔ پست حوصلوں کی داستان !

بھارتی اخبار ’’اکنامک ٹائمز‘‘ کے مطابق ہندوستانی فوج پاک سرحد کے قریب جنگی مشقوں کا انعقاد کررہی ہے جس میں 40 ہزار سے زائد بھارتی فوج کے مختلف دستے شرکت کریں گے ۔ ماہرین کے مطابق بھارتی عسکری اور سیاسی حکمرانوں کو سمجھنا ہو گا کہ محض اس قسم کی جارحیت اور مہم جوئی کی روش کے ذریعے وطن عزیز کے عوام اور فوج کے حوصلوں کو پست نہیں کیا جا سکتا اور جنگیں لڑنے کیلئے جس جذبہ شہادت اور جوش و ولولہ کی ضرورت ہوتی ہے، وہ بھارتی فوج میں یکسر ناپید ہے ۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارتی افواج اپنا مورال اور پروفیشنلزم تیزی سے گنوا رہی ہے ۔ آئے روز کسی نہ کسی بھارتی فوجی کی خودکشی سکہ راءج الوقت بن کر رہ گئی ہے ۔ بھارتی فوجیوں کی جانب اپنے ساتھی اہلکاروں کا قتل اور ان سے لڑائی کی خبریں بھارتی میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انڈین آرمی اپنا پروفیشنلزم کس تیزی سے گنوا رہی ہے اور اس طرح کے واقعات بھارتی فوجیوں کے مورال پر کس خطرناک طریقے سے اثر انداز ہوتے ہیں ، اس کے بارے میں خود بھارت کے دفاعی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ انڈین آرمی میں ڈپریشن اور ذہنی تناءو کے زیراثر خودکشی اور ساتھی اہلکاروں کے قتل کے واقعات خطرناک حد تک بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں ۔ بھارتی فوجیوں کے مابین افسران کے امتیازی سلوک، ناکافی تنخواہ، چھٹی نہ ملنے، مظالم سے ضمیر پر بوجھ، ٹوٹتے اعصاب، تحقیر آمیز رویے کی وجہ سے ڈپریشن اپنی انتہاءوں کو چھو رہا ہے، جس کی وجہ سے بھارتی فوجیوں کی غیر طبعی اموات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ یاد رہے کہ اتنے بھارتی فوجی چھڑپوں اور آپریشن کے دوران نہیں مرتے جتنے خود اپنے ہاتھوں موت کو گلے لگا لیتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں ، اس سے دیگر فوجیوں کے مورال میں گراوٹ آتی ہے ۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ہر مہینے 10 سے 15 بھارتی فوجی خودکشی کرتے ہیں ۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ کثیر الاشاعت ہندی اخبار ’’ وشو سماچار‘‘ کے مطابق گذشتہ چند مہینوں میں بھارتی سپاہیوں کے علاوہ 13 افسران اور 24 جونیئر کمیشنڈ آفیسر بھی خودکشی کر چکے ہیں ۔ یوں آپریشن اور جھڑپوں میں مرنے والے فوجیوں کی تعداد سے 12 گنا زیادہ دوسری وجوہات سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ہندوستانی سپاہیوں میں اپنے ساتھی اہلکاروں کو قتل کرنے کے واقعات ایک رجحان کی شکل اختیار کر چکے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دیگر شعبوں کی مانند بھارتی افواج میں بھی خاتون اہلکاروں کا استحصال ہر سطح پر جاری ہے ۔ بہت سے افسران اور اہلکار ساتھی خواتین اہلکاروں کی عصمت دری کے مرتکب ہوتے ہیں اور ایسی خواتین ٹراما کا شکار ہو کر اہل خانہ کی بدنامی کے ڈر سے خودکشی کر لیتی ہیں ۔ یاد رہے کہ معروف عالمی ادارہ ’’تھامسن راءٹرز فاءونڈیشن‘‘ بھی کہہ چکا ہے کہ ’’بھارت خواتین کے رہنے کے لئے دنیا کا بدترین ملک بن چکا ہے‘‘ ۔ مذکورہ فاءونڈیشن نے اپنے سروے میں کہا کہ بھارتی خواتین کی بہت بھاری اکثریت کسی نہ کسی طور سے جسمانی استحصال کا شکار ضرورہوتی ہے ۔ مزید ستم ظریفی یہ کہ ان خواتین کو انصاف کے لئے بھی بھارتی ججز، پولیس اور ڈاکٹروں کی جانب سے مزید جنسی و اخلاقی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یوں مذکورہ سروے کے مطابق ایسے واقعات میں 70 فیصد سے زائد معاملات رپورٹ ہی نہیں کئے جاتے ۔ بہرحال بات ہو رہی تھی بھارتی فوجیوں کے گرتے مورال کی ۔ یہ امر اہم ہے کہ بھارت کے کثیر الاشاعت ہندی اخبار ’’نو بھارت ٹائمز‘‘ کے مطابق بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے بھی انڈین آرمی میں دگردوں صورتحال کا اعتراف کیا اور کہا کہ قریباً دو بٹالین جتنے بھارتی فوجیوں کے ہر سال غیرطبعی اموات کا شکار ہونے پر سخت تشویش ہے ۔ یہ بھی ایک کھلا راز ہے کہ سابق بھارتی وزیردفاع نرملا سیتا رمن ( موجودہ وزیر خزانہ) کے عہدہ سنبھالنے کے بعد 100 سے زائد ہندوستانی افواج کے افسران بھارتی سپریم کورٹ جا کر انڈین آرمی میں امتیازی سلوک سے متعلق پٹیشن دائر کر چکے ہیں ۔ ان سو سے زائد لیفٹیننٹ کرنل اور میجروں کی قیادت کر رہے ’’لیفٹیننٹ کرنل پی کے چوہدری‘‘ نے کہا تھا کہ انڈین آرمی کے مابین شدید گروہ بندی موجود ہے اور افسران کو پروموشن کے ضمن میں بھی امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس سے افسران میں مایوسی تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ سنجیدہ حلقوں کی رائے ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انڈین آرمی کے غیر انسانی مظالم ۔۔۔بھارتی فوجیوں میں بڑھتے ڈپریشن اور خودکشی کے رجحانات کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہیں ۔ نہتے عوام پر غیر انسانی مظالم کی وجہ سے سپاہیوں کے ضمیر پر ایک مسلسل بوجھ رہتا ہے جس سے نجات کے لئے انھیں خودکشی کا راستہ ہی نظر آتا ہے ۔ پیلٹ گنز کا بے دریغ استعمال،نہتے کشمیریوں پر بد ترین تشدد اور کشمیری خواتین کی عصمت دری کے کچھ عرصے بعد بھارتی فوجی بالعموم ایک ٹراما کی سی کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ دوسری طرف پاکستان کے اندر صورتحال قطعی مختلف بلکہ متضاد ہے اور پاک افواج اور عوام کے درمیان باہمی احترام و اعتماد کا مضبوط رشتہ قائم ہے ۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ انڈین آرمی نہ صرف بدترین اخلاقی بحران میں مبتلا ہے بلکہ اس کے اعصاب بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ۔ ایسے میں یہ شاید بآسانی کہا جا سکتا ہے کہ بھارتی افواج ’’گرتے مورال اور بڑھتے عزائم ‘‘ کی جیتی جاگتی مثال بن چکی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں