Home » کالم » بھارتی فورسز کی پریس کانفرنس، سفید جھوٹ

بھارتی فورسز کی پریس کانفرنس، سفید جھوٹ

کہتے ہیں نہ کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ اگر ایک بار جھوٹ بول دیں تو اس کو بچانے کیلئے جھوٹ پر جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ آج کل بھارتی سرکار، فورسز اور میڈیا کا بھی یہی حال ہے۔ پلوامہ سانحہ پر پہلے پہل تو بغیر ثبوت الزامات پاکستان پر عائد کیے گئے ۔ اس کار خیر میں بھارتی میڈیا ، سیاستدان، سرکار اوربھارتی فوج نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پاکستان کو دھمکیاں دی گئیں۔ اسے دہشت گرد ملک ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا۔ یہ نریندر مودی تھے جنہوں نے چند روز قبل راجستھان میں جلسے کے دوران پاکستان کے ساتھ ’حساب برابر‘ کرنے کا نعرہ لگایا تھا اور اس کے بعد بالاکوٹ میں بھارتی فضائی حملہ کیا گیا۔پیر اور منگل کی درمیانی شب دو بھارتی طیارے ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چار کلومیٹر اندر گھس آئے اور کھلی جگہ پر اپنا اسلحہ پھینک کر بھاگ گئے ۔ اس خود ساختہ حملہ میں صرف تین چار درخت ہلاک اور زخمی ہوئے۔اس کے برعکس بھارت نے شور مچا دیا کہ بھارتی طیاروں نے پاکستان میں دہشت گردی کے تربیتی کیمپ پر حملہ کیا اور تین سو سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ وزیر اعظم مودی نے بھی اپنے گجرات کے انتخابی جلسے میں اس اٹیک کو استعمال کرتے ہوئے خو ب بڑھکیں ماریں۔ سینہ چوڑا کر کے کہنے لگے کہ پاکستان کو سبق سکھادیا۔ لیکن جب بھارتی سرکار سے پوچھا گیا کہ جو حملہ کیا ہے وہ دکھائیں تو سہی۔ کہاں ٹریننگ سنٹر تباہ ہوا۔ تین سو بندے ہلاک ہوئے کوئی نشان، کوئی ثبوت تو بھارت کو ہر محاذ پر سانپ سونگھ گیا۔ پھر بھارتی میڈیا، سرکار اور فورسز آئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔ اس کے برعکس ہمارے میڈیا ، حکومت اور فورسز نے نہ صرف وہ جگہ دکھائی جہاں نام نہاد حملہ کیا گیابلکہ بھارتی جہازوں سے پھینکے جانے والے ہتھیار بھی دکھائے۔ قومی و بین الاقوامی میڈیا کو بھی وہ علاقہ دکھانے کی پیشکش کی گئی۔ لیکن نہ ہی کوئی ٹوٹی ہوئی عمارت نظر آئی اور نہ ہی کوئی لاش یا خون دکھائی دیا۔ ہماری حکومت اور فورسز نے ببانگ دہل اعلان کیا کہ ہم جواباً اپنی مرضی کا بدلہ لیں گے۔ بھارت کو حیران کریں گے اور سب کو دکھائیں گے۔ لہذا 27 فروری کو پاکستان نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے بھارتی علاقہ میں چھ جگہوں پر نشانہ بازی کی۔ اس کے ساتھ ہی دو بھارتی مگ 21 جو ایک دفعہ پھرہماری فضائی حدود عبور کر کے اندر آگئے تھے، کو ہمارے شاہینوں نے نشانہ بنایا اور دونوں طیارے مار گرائے۔ ایک طیارہ آزاد کشمیر کے علاقے میں گرا جس کا پائلٹ ابھی نندن گرفتار ہوا جبکہ دوسرا طیارہ مقبوضہ کشمیر میں گرا۔ طیارے گرنے پر بھی بھارتی سرکار نے جھوٹ کا دامن نہیں چھوڑا ۔ بھارت کی تینوں مسلح افواج کے نمائندے مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی پاکستان میں دہشتگردوں کے کیمپ کے ثبوت فراہم نہ کرسکے۔ تینوں افواج کے نمائندوں نے پہلے سے لکھے ہوئے مختصر بیانات میڈیا کو پڑھ کر سنائے اور فوٹو سیشن کے بعد چلتے بنے۔ سب سے پہلے ایئر فورس کے نمائندے ایئر وائس مارشل اے وی ایم کپور نے پہلے سے لکھا ہوا بیان پڑھا۔جس میں کہا گیا کہ 27 فروری 2019 کو صبح 10 بجے انڈین ریڈار نے بڑی تعداد میں پاکستانی طیاروں کو بھارتی حدود میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے الزام دہرایا کہ انڈین ایئر فورس نے پاکستان کا ایف 16 طیارہ گرایا ہے لیکن اس بارے میں کوئی واضح ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان ایئر فورس نے بھارت کی ملٹری انسٹالیشنز کو نشانہ بنایا ، ملٹری کمپا?نڈز میں پاکستانی بم گرے لیکن ان سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے اس کے بھی کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔ بھارتی ایئر وائس مارشل اے وی ایم کپور نے تسلیم کیا کہ پاک فضائیہ نے نہ صرف ان کا مگ 21 تباہ کیا ہے بلکہ اس کے پائلٹ کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔ ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا تھا کہ پاکستان نے کارروائی میں کوئی ایف 16 طیارہ استعمال نہیں کیا اور ان علاقوں کو ٹارگٹ کیا ہے جہاں سے کوئی جانی نقصان نہ ہو۔بھارتی آرمی کے نمائندے میجر جنرل سریندر سنگھ بہل نے بھی پہلے سے لکھا ہوا مختصر بیان پڑھا اور الزام عائد کیا کہ پاک فضائیہ نے کارروائی کے دوران بریگیڈ ، بٹالین ہیڈ کوارٹر اور لاجسٹک انسٹالیشن کو ٹارگٹ کیا۔اس پریس کانفرنس میں سب سے مختصر بیان بھارتی نیوی کے ریئر ایڈمرل دلبیر سنگھ گجرال نے پڑھا اور کہا کہ بھارتی نیوی تیار ہے۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں بھارتی فورسز کے نمائندے وہ صحافیوں کو پاکستان کے خلاف کارروائی کے شواہد فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ایک صحافی نے جب پاکستان میں کارروائی اور اس میں دہشتگردوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے سوال پوچھا تو بھارتی ایئر وائس مارشل نے کہا کہ انہوں نے کارروائی میں اپنا ٹارگٹ حاصل کرلیا۔انہوں نے کہا ہم نے پاکستان کا ایف سولہ طیارہ کو مار گرایا تھا لیکن جب ان کے ہی میڈیا نے سوال پوچھا کہ اس کا ثبوت کیا ہے تو بھارتی ائیر فورس کے سربراہ جواب تو نہ دے سکے لیکن ادھر اْدھر کی باتیں کرتے ہوئے ایک خاص میزائل کا کوئی پرانا پرزہ دکھا کر یہ کہنا شروع کر دیا کہ اس آپریشن میں استعمال ہونے والا یہ میزائل صرف پاکستان کے ایف سولہ پر ہی لگا یا جا سکتا ہے اس طر ح ہم کہہ سکتے ہیں تباہ ہونے والا طیارہ پاکستان کا ایف سولہ ہی تھا۔یہ پریس کانفرنس شام پانچ بجے(پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے چار بجے) ہونی تھی لیکن وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کی رہائی کے اعلان کے بعد دو گھنٹے کے لیے ملتوی کردی گئی اور اب بھارتی وقت کے مطابق شام 7 بجے ہوگی۔اس پریس کانفرنس میں وزارت خارجہ کے ترجمان یا کسی دوسرے سویلین نمائندے کو شامل نہ کرنے پر بھارت میں سوال اٹھ رہے ہیں۔دوسری طرف بی جے پی رہنما نے مودی کے سیاسی ایجنڈے کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ بی ایس یادیو کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں سے انہیں 22 مزید نشستیں جیتنے میں مدد ملے گی کیونکہ پاکستان میں فضائی کارروائی سے پورے ملک میں مودی مخالف ہوا تھم گئی ہے۔ فضائی کارروائی مودی کے حق میں بہترین ثابت ہوئی جس کا نتیجہ انتخابات میں دیکھنے کو ملے گا۔ بی ایس یادیو نے مزید کہا بی جے پی کو لوک سبھا کی 22 سے 28 نشستیں جیتنے میں مدد ملے گی۔ بی جے پی دعویٰ تو مزید نشستوں کا کر رہی ہے مگر پاکستان کی جانب سے بھارتی طیارے گرانے پر شاید پہلے سے موجود سیٹوں سے ہاتھ دھونا پڑ جائے کیونکہ بھارت کی مودی سرکار فوج کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے پر شدید دباؤ میں ہے۔
***

About Admin

Google Analytics Alternative