بھارت طاقت کا توازن بگاڑنے کا ذمہ دار

58

گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پوری دنیا میں جتنا بھی اسلحہ فروخت ہوا اس کا 9;46;5 فیصد صرف بھارت نے خریدا ۔ 2014-2019 کے درمیان جمع کئے گئے اعدادو شمار کے مطابق بھارت دنیا بھر میں اسلحہ کی خریداری میں دوسرے نمبر پر ہے ۔ 2013-2017 کے دوران بھارت اسلحے کی خریداری میں پہلے نمبر پر تھا ۔ اس دوران بھارت نے دنیا بھر میں فروخت ہونے والے اسلحے کا 13 فیصدخریدا تھا ۔ بھارت 58 فیصد اسلحہ روس، 15 فیصد اسرائیل اور 12 فیصد امریکہ سے خریدتا ہے ۔ بھارت روس سے بھی 400 ارب کا ایس400 میزائل سسٹم خریدنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ بھارت کے پاس 130 سے 140 ایٹمی ہتھیار ہیں ۔ بھارت اس کے علاوہ فرانس سے 59 ارب ڈالر کے رافیل جنگی طیارے بھی خریدرہا ہے جس میں سے ایک طیارہ بھارت کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔ بھارت نے حال ہی میں روس کے ساتھ ایک نئی آب دوز کرائے پر لینے کا معاہدہ کیا ہے ۔ ایٹمی آبدوز کے حصول کا یہ معاہدہ 3 بلین ڈالرز پر مبنی ہے ۔ معاہدے کے مطابق روسی ایٹمی آب دوز 10 سال کے لیے لیز پر بھارت کے سمندروں میں خدمات انجام دے گی ۔ روس کی ایٹمی طاقت کی حامل یہ تیسری آب دوز 2025 تک بھارت کو فراہم کی جائے گی ۔ یہاں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ روس سرد جنگ کے زمانے میں بھی بھارت کو اسلحہ فراہم کرنے والا بڑا ملک تھا ۔ اس سے قبل بھی بھارت کو ایک آب دوز کرائے پر دے چکا ہے جس کے کرائے کی مدت میں اضافے کے لیے بھی مذاکرات کیے گئے ہیں ۔ اس آبدوز کی کارکردگی بھی ملاحظہ ہو کہ گزشتہ سال فروری میں فضائی دراندازی اور بد ترین شکست کے بعدبھارت نے پاکستانی سمندری حدود میں بھی داخل ہونے کی کوشش کی لیکن مستعد پاک بحریہ نے اپنے سمندری زون میں موجود بھارتی ایٹمی آب دوز کا سراغ لگا کر اس کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی تھی ۔ بھارت کے اسلحہ جمع کرنے کے خبط کو بڑھانے میں بڑی طاقتیں بھی برابر کی شریک ہیں ۔ بھارت نے جہاں امریکہ اور روس سے اسلحہ خریدا وہیں اسرائیل سے بھی اس کے معاہدے بروئے کار رہے ۔ بھارت کے جنگی جنون اور اسلحہ جمع کرنے کے خبط نے خطے میں طاقت کا توازن بری طرح بگاڑ کر رکھ دیا ہے ۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر تنقید کرنے والی عالمی طاقتوں کو پاکستان اور بھارت کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ بھی لینا چاہئے ۔ خود امریکی ادارے بھارت کے حفاظتی انتظامات کو ناقص قرار دے چکے ہیں ۔ مقابلے میں پاکستان کے حفاظتی انتظامات اب تک فول پروف ثابت ہوئے ہیں ۔ پاکستان کے پاس بھارت کے مقابلے میں اسلحہ کے ذخائر تو نہیں ہیں مگر جو روایتی اور غیر روایتی اسلحہ ہے وہ معیاری و دفاعی ضروریات کے مطابق ہے جس کو ضرورت کے مطابق اور فی زمانہ ٹیکنالوجی میں جدت کے تقاضوں کے تحت اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے ۔ بھارت کا جنگی جنون بجائے کم ہونے کے، بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔ یہاں تک کہ بھارت دنیا میں اسلحہ خریدنے والا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے ۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) تنازعات، ہتھیاروں ، ان پر قابو کرنے اور تخفیف اسلحہ پر تحقیق کے لیے وقف ہے ۔ سپری کی رپورٹ کے مطابق سویڈن سے تعلق رکھنے والے ادارے نے اپنے نئے اعداد و شمار میں بتایا کہ گزشتہ 5 برسوں میں بھارت دنیا میں ہتھیار درآمد کرنےوالا دوسرا بڑا ملک ہے جبکہ پاکستان کا گیارہواں نمبر ہے ۔ اس حوالے سے سپری میں ایک سینئر محقق سیمن ٹی ویزیمین کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی بڑے ہتھیاروں کے برآمد کنندگان دہائیوں سے بھارت کو ہتھیار فراہم کر رہے ہیں ۔ سپری کے مطابق 2010 سے 2014 اور 2015 سے 2019 کے درمیان بھارت اور پاکستان کی جانب سے ہتھیاروں کی درآمد بالترتیب 32 اور 39 فیصد تک کم ہوئی ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک اپنے ہتھیار خود تیار کرنے کا مقصد رکھتے ہیں لیکن یہ دونوں بڑ ی حد تک درآمدات پر انحصار کرتے ہیں اور ان کے پاس بڑے ہتھیاروں کی تمام اقسام کو درآمد کرنے کےلئے آرڈرز اور پلانز موجود ہوتے ہیں ۔ 2019 کے اوائل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کرگئی تھی ۔ بھارت نے فرانس اور روس سے درآمد شدہ جنگی طیارے، اسرائیل سے درآمد شدہ گائیڈڈ بم اور سویڈن سے درآمد شدہ توپ خانے کا مبینہ طور پر استعمال کیا ۔ پاکستان کی ہتھیاروں کی درآمدات میں مجموعی طور پر کمی امریکا کی پاکستان کےلئے فوجی امداد روکنے سے منسلک تھی ۔ امریکا نے 2010 سے 2014 میں پاکستان کی ہتھیاروں کی درآمد 30 فیصد کی تھی لیکن 2015 سے 2019 میں یہ صرف 4;46;1 فیصد تک ہوگئی تھی ۔ تاہم 2015 سے 2019 کے میں پاکستان نے یورپی ریاستوں سے ہتھیاروں کی درآمد جاری رکھی جبکہ ترکی کے ساتھ ہتھیاروں کی درآمد کے اپنے تعلقات کو مضبوط کیا اور پاکستان نے سال 2018 میں 30 جنگی ہیلی کاپٹرز اور 4 جنگی جہازوں کے آرڈرز دیے ۔ اس کمی کو پورا کرنے کےلئے پاکستان نے چین کی مدد سے اپنے ہاں بہت سارا اسلحہ تیار کرنا شروع کر دیاکیونکہ ہم دفاعی پیداوار میں خود مختیار ہونا چاہتے ہیں ۔ پاکستان آرڈیننس فیکٹری نے گزشتہ 5 سال میں 97 فیصد اہداف حاصل کیے ۔ پی او ایف میں 14 فیکٹریاں ہیں جو مسلح افواج کی ضروریات پوری کر رہی ہیں ۔ ملٹری وہیکل ریسرچ محکمے کی کوششوں سے 426 ملین کی درآمدات کی بجائے مقامی پیداوار سے 249 ملین کی بچت ہوئی ۔ جبکہ اگلے پانچ برسوں میں 200 سے 290 ملین روپے سالانہ بچت کا ہدف رکھاگیا ہے ۔ ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا میں 16 الخالد ، 36 ٹی اور 80 یوڈی ٹینکس بن رہے ہیں ۔ اس ادارے نے اب تک 165 بکتر بند گاڑیاں تیار کی ہیں ۔ ایئروناٹیکل کمپلیکس کامرہ 24 سپر مشاق طیارے سالانہ تیار کر سکتا ہے ۔ مختلف ممالک کو اب تک 90 طیارے فراہم کر چکے ہیں ۔ ملک میں 14 جے ایف 17 تھنڈر بنا کر قومی خزانے کےلئے 49 کروڑ ڈالر بچائے ۔ جبکہ میراج ریبلڈ فیکٹری نے ملکی خزانے کو 21 کروڑ 70لاکھ ڈالر کا فائدہ پہنچایا ۔