Home » کالم » بھارت کشمیریوں کے بڑے قتل عام کو تیار

بھارت کشمیریوں کے بڑے قتل عام کو تیار

پلوامہ واقعہ کے بعد بھارتی فضائی شکست اور اب کلبھوشن کیس میں ناکامی کے بعد بھارتی حکومت انگاروں پر لوٹ رہی ہے ۔ اوپر سے امریکی صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کر دی جس کا واضح مطلب ہے کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضے سے ہاتھ دھونے پڑیں گے ۔ اسی لئے بھارت قانونی طورپر کشمیر کے الحاق کو دائمی بنانے اور آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کےلئے تگ و دو کر رہا ہے دوسری طرف کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کےلئے عملی اقدامات بھی کر رہا ہے ۔ وادی میں پہلے سے موجود آٹھ لاکھ فوج کے علاوہ مزید فوج بھیجی گئی ہے ۔ کشمیری نوجوانوں کو بہانے بہانے سے شہید کیا جا رہا ہے ۔ نہتے کشمیری بچوں ، بوڑھوں اور خواتین سے انتہا ئی ناروا سلوک کیا جا رہا ہے ۔ محبوبہ مفتی نے کہا وادی میں بڑی کارروائی ہونے جا رہی ہے ۔ صورتحال کے پیش نظر لوگوں نے خوراک‘ ادویات اور فیول کا ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی مزید اتنی بڑی تعداد کے قیام کیلئے سرکاری و نجی عمارتوں پر فوج نے قبضہ کر لیا ہے ۔ 3 لاکھ ہندو یاتریوں کو کشمیر سے نکل جانے کا حکم دیدیا گیا ۔ فوج کے ساتھ تمام پولیس سٹیشنوں ‘ پولیس ڈویژنوں اور پولیس پوسٹوں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ۔ جموں میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے اور ہوائی اڈوں پر فوجی تنصیبات کو تیار کھا گیا ہے ۔ سرحدی علاقوں میں فوج کی اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے ۔ صبح سے ہی ہوائی اڈے کے اوپر سے ڈرون طیاے گردش کرتے رہے ۔ وادی میں موجود ہزاروں سیاح اور طلبا میں خوف و ہراس پھیل گیا اور واپسی کے لیے قطاریں لگ گئیں ۔ ریاستی حکومت نے ایک روز قبل ہی سیاحوں کو وادی سے چلے جانے کو کہا تھا جس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی تھی کہ خفیہ اطلاعات ہیں کہ خطے میں دہشت گردی کا خطرہ ہے ۔ ریاستی حکومت کی ہدایت کے بعد غیرملکیوں سمیت ہزاروں سیاحوں نے سری نگر ایئرپورٹ کا رخ کیا جن میں سے اکثریت کے پاس ٹکٹ بھی نہیں تھے ۔ مقبوضہ کشمیر میں سالانہ مذہبی تہوار امرناتھ یاترا کے باعث ہزاروں افراد موجود تھے جبکہ حکومت کی جانب سے مذہبی تہوار کو بھی منسوخ کردیا گیا ۔ امرناتھ یاتری کے اطراف میں وارننگ سے قبل ہی سیکیورٹی کی کثیر تعداد موجود تھی، اس کے علاوہ جموں کے علاقے میں ہونےوالے ہندءووں کے ایک اور مذہبی میلہ میکائیل ماتا یاترا کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے ۔ کشمیر میں موجود غیرمقامی سینکڑوں طلباء بسوں کے ذریعے واپس جا رہے ہیں ۔ سری نگر کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ایک انتظامی عہدیدار کا کہنا تھا کہ تمام غیرمقامی طالب علم کیمپس سے واپس اپنی ریاستوں کو جاچکے ہیں ۔ کشمیر کے مقامی افراد بھی اس وارننگ سے خوف کا شکار ہیں اور اشیا خورد ونوش، پیڑول اور بینکوں سے پیسوں کے حصول کے لیے متعلقہ اسٹیشنوں کے باہر ان کی لمبی قطاریں لگ گئیں ۔ اسی پر حریت رہنما سید علی گیلانی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت پر ایس او ایس کال دی اور کشمیریوں کی نسل کشی کے خطرے کا اظہار کیا ہے ۔ سید علی گیلانی نے مسلم امہ کے نام پیغام میں کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام کرنے جا رہا ہے ۔ اگر ہم شہید اور آپ سب مسلمان خاموش رہے تو اللہ تعالیٰ کو جواب دینا ہو گا ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے ۔ مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں ‘ غیر کشمیریوں اور طلباء کو واپسی کے حکم پر سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ۔ میر واعظ نے کشمیریوں سے ایکشن کی اپیل کی ہے ۔ سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ فکر مند ہیں کہ بھارتی فوج‘ ائرفورس کو الرٹ کرنے کا مطلب کیا ہے ۔ میئر سرینگر جنید عظیم نے کہا ہم سب محصور ہیں ۔ صحافی برکھا دت نے صورتحال کو بحرانی قرار دیا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سید علی گیلانی کے بیان کے بعد او آئی سی سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے ۔ شاہ محمود قریشی جنرل سیکرٹری او آئی سی کو کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرینگے ۔ پاکستان کشمیریوں کی سفارتی اخلاقی معاونت جاری رکھے گا بھارت اس وقت بوکھلاہٹ کا شکار ہے امریکی صدر کی ثالثی کی یہ پیشکش پربھارت آگے نہیں بڑھ رہا ۔ بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشتگردی کی تازہ کارروائیوں کے دوران بارہمولہ اورشوپیاں کے اضلاع میں مزید 3 کشمیری نوجوان شہید کر دیئے ۔ جموں خطے کے علاقوں وادی چناب اور پیر پنچال میں بھارتی پیراملٹری اہلکاروں کی اضافی تعیناتی سے ان علاقوں میں خوف ودہشت کا ماحول پیدا ہوگیا ہے ۔ لوگ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ کچھ برا ہونے والا ہے ۔ بھارتی پولیس نے جنوبی کشمیر کے قصبوں بیج بہاڑہ اور اسلام آبادسے غلام نبی سمجھی، مختار احمد وازہ اور منظور احمد غازی سمیت کئی حریت رہنماؤں کو گرفتار کرکے مقامی پولیس سٹیشنوں میں نظربند کردیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے 40 ہزار کے قریب اضافی فوجیوں کی تعیناتی پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے سینکڑوں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر زبردست مظاہرے کئے ۔ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے گولیاں اور پیلٹ چلائے اور آنسو گیس کے گولے داغے جس کے باعث متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔ قابض انتظامیہ نے ضلع شوپیاں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ۔ بھارتی فورسز نے ضلع پلوامہ کے کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپوں کے دوران متعدد نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ۔ میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں قائم حریت فورم نے جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے غیر قانونی طور پر نظربند چیئرمین محمد یاسین ملک کی نئی دلی کی تہاڑ جیل میں گرتی ہوئی صحت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جیلوں میں نظر بند دیگر کشمیریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ کشمیر یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کے بیسیوں طلباء نے اپنے کیمپس میں جمع ہو کر بھارت کی طرف سے مقبوضہ وادی میں پیدا کی گئی جنگی صورتحال کے خلاف زبردست مظاہر ہ کیا ۔ جموں وکشمیر پیپلز موومنٹ کے چیئرمین میر شاہد سلیم نے بھارتی حکومت کو خبردارکیا کہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کے تباہ کن نتاءج نکلیں گے ۔ بھارتی کانگریس جموں وکشمیر پالیسی پلاننگ گروپ نے بھی وزارت داخلہ اور مقبوضہ کشمیر حکومت کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی سرکار کے ارادوں سے متعلق خدشات پیدا ہو رہے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں عدم تحفظ اور خوف کا ماحول پیدا ہو رہا ہے ۔ حکومت کوئی ایسا فیصلہ نہ کرے جس سے بحران مزید پیچیدہ ہو جائے ۔ حکمران پارٹی کی غلط پالیسیوں اور جموں و کشمیر کے بارے میں بھارتی آئین کے آرٹیکل 35;65; اور آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے حکومتی ارادوں کے بارے میں جموں و کشمیر میں وسیع پیمانے پر پیدا ہونےوالے خوف و ہراس اور خدشات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تمام اقدامات جموں و کشمیر میں انتشار اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا کر رہے ہیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative