Home » کالم » بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور سیکولرازم

بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور سیکولرازم

ہندووَں کے بارے میں خاص طور پر آنجہانی گاندھی نے یہ تاثر عام کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ اہنسا کے علمبردار ہیں اور اتنے رحم دل اور شریف النفس ہیں کہ کسی چیونٹی کو مارنا بھی گناہ سمجھتے ہیں لہذا ہندو کسی انسان کو ہلاک کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ حالانکہ ہندووَں کی پوری تاریخ اس تاثر کے برعکس آپس میں کشت و خون کے واقعات سے بھری پڑی ہے ۔ تقسیم ہندکے بعد انہوں نے لاکھوں مسلمانوں کو جس بیدردی اور سفاکی کے ساتھ شہید کیا اس پر انسانیت آج تک نادم ہے بلکہ ہر سال ہزاروں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے ۔ بھارت میں ہندو انتہا پسند تنظیم وشواپریشد مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے اور نفرت پھیلانے میں سرفہرست ہے ۔ اس تنظیم نے مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی مہم مزید تیز کر دی ہے اور اس کے جنرل سیکرٹری پروین تو گاڈیہ نے مسلمانوں کی ایک قدیمی درسگاہ دارلعلوم دیوبند اور تبلیغی جماعت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ بابری مسجد کی شہادت کے موقع پر اور اس کے بعد بھی بھارت کے طول و عرض میں مسلمانوں کے خلاف فسادات کی آگ بھڑکانے میں یہ تنظیم ہمیشہ آگے رہی ہے ۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا کے ترجمان اخبار ’’سامنا‘‘ نے ممئی کے ایک تھیٹر میں بم دھماکے میں ملوث ہندو تنظیموں کی کارکردگی کو سراہا لیکن اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے زیادہ شدت والے ہندو بم بنائے جائیں ۔ آج انہی فرقہ پرست ہندو جماعتوں کے گھٹیا اور متعصبانہ کردار کی بدولت پاک بھارت تعلقات کشیدہ ہیں ۔ تاہم بھارت نے پاکستان کے ساتھ سمجھوتہ اور دوستی کے لئے ہاتھ بڑھایا تو ہے مگر اس میں ہندو بنیا لا تعداد کروٹیں بدل بدل کر بین الاقوامی برادری کو ایسے تاثرات دے رہا ہے جس میں اس بات کو حقیقت کا روپ دینے کی بھر پور کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان جارح ہے اور ابھی تک وہ در اندازی کامرتکب ہو رہا ہے ۔ یوں تو ہندوستان دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں لیکن عملاً بھارت ایک ہندو ملک ہے جہاں جمہوریت صرف ہندوؤں کےلئے ہے ۔ انتہا پسند ہندووَں طرف سے فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث ہونے کے واقعات جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں اس سے بھارت میں عدم برداشت اور انتہا پسندانہ کارروائیوں کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں ہر حکومت کے دور میں گرجا گھروں کے سامنے باجہ بجانا ہندووَں کی ضد رہی ہے ۔ وہ کہتے تھے کہ ہم گرجا گھروں اور مسجد وں کے سامنے عبادت کے اوقات میں باجہ بجائیں گے ۔ نام نہاد بی جے پی کی اینٹی مسلم‘ اینٹی کرسچین تحریک نے بھارت میں عدم برداشت اور تشدد پسندی کی فضا قائم کررکھی ہے جس سے فرقہ واریت میں اضافہ ہورہا ہے لیکن جہاں تک عیسائیوں کا معاملہ ہے تو انتہا پسند ہندوءوں کا مقصد مقامی ہندوءوں کو عیسائیت کا مذہب اختیار کرنے سے روکنا ہے جس کا نتیجہ چرچوں پر حملوں کی صورت میں سامنے ;200;یا ہے ۔ بھارتی صوبے اڑیسہ میں عیسائیوں کو جن تکالیف سے گزرنا پڑ رہا ہے ان کی ایک جھلک ایک رپورٹ میں دکھائی گئی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ایک گاؤں میں بسنے والے عیسائی خاندان کو ان کے پڑوسیوں نے بلایا اور کہا کہ وہ ہندو پجاری کے سامنے جھک جائیں ۔ ان کے گھر سے انجیل اور دیواروں پر آویزاں حضرت عیسیٰ ;174; کی تصاویر اور کیلنڈر بھی اتار کر جلا دیئے ۔ انہیں دھمکی دی گئی کہ وہ ہندو مذہب قبول کر لیں ورنہ انہیں قتل کر دیا جائے گا اور ان کا گھر مسمار کر دیاجائےگا ۔ اڑیسہ میں عیسائیوں کے خلاف ایک مہم چل رہی ہے ۔ عیسائیوں کا کہنا ہے کہ انہیں زندگی کے عوض اپنا مذہب تبدیل کرنے کو کہا جا رہا ہے ۔ ضلع کندھا مل میں تیس سے زائد عیسائیوں کو جان سے مار دیا گیا تین ہزار گھر اور ایک سو تیس گرجا گھر جلا دیئے گئے ۔ غریب عیسائیوں کا کاروبار تباہ کر دیا گیا اور ان کے گھروں کے سامنے ہندو ازم کی علامت مالٹا رنگ کے پرچم لہرائے جاتے ہیں ۔ بے شمار عیسائی مبلغین زندہ آگ میں پھینک دیئے گئے کیونکہ انہوں نے ہندووَں کے سب سے نچلے درجے پر رہنے والے شودروں کو عیسائی بنایا تھا تاکہ وہ متعصب ہندووَں کے چنگل سے نکل کر آزادی حاصل کریں ۔ اس سے قبل بھی بھارتی ریاست اڑیسہ میں انتہا پسند ہندووں نے 11 گرجا گھروں کو جلا دیا ۔ یہ کارروائی کرسمس کے موقع پر کی گئی جبکہ عیسائیوں کا تہوار اپنے عروج پر ہوتا ہے ۔ انتہا پسند ہندووَں طرف سے فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث ہونے کے واقعات جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں اس سے بھارت میں عدم برداشت اور انتہا پسندانہ کارروائیوں کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں ہر حکومت کے دور میں گرجا گھروں کے سامنے باجہ بجانا ہندووَں کی ضد رہی ہے ۔ اقتدار ملنے کے بعد اس طبقے کا اثرو روسوخ اور بھی بڑھ گیا ہے ۔ بھارتی فوج میں نسلی اور لسانی تعصبات میں غیر محسوس طریقے سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ بھارتی فوج میں سکھ افسروں کو کم از کم انتظامی ذمہ داریاں دی جاتی ہیں ۔ بھارتی مسلح افواج میں یہ نسلی، لسانی اور مذہبی تقسیم بڑی تیزی سے افسروں اور ماتحتوں کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کر رہی ہے ۔ ہندوستان دنیا کا غالباً واحد ملک ہے جس کے حکمران قول و فعل کے بدترین تضادات کا شکار ہیں ۔ ایک جانب وہ آزادی، جمہوریت اور مساوات کا پرچارکرتے ہیں تو دوسری طرف روزانہ بھارت کے کسی نہ کسی حصے میں درجنوں افراد افلاس کے ہاتھوں خودکشیاں کرتے ہیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative