Home » کالم » بیرونی مسلح گروہوں کا آزادی ِکشمیر سے کوئی تعلق نہیں

بیرونی مسلح گروہوں کا آزادی ِکشمیر سے کوئی تعلق نہیں

بھارت میں ہوئے مئی اپریل دوہزار انیس کے انتخابات کے نتیجے میں بھاچپا سرکار دوتہائی اکثریت سے اقتدار کے سنگھاسن پر دوبارہ قابض کیا ہوئی مودی کچن کیبنٹ کے دماغوں میں شیطانیت کی ایسی اکٹر اور ایسا تکبراور کھل کر نمایاں ہوا گویا شیطان کے یہ چیلے اکیسویں صدی کے مسولینی اور ہٹلر بن کر دنیا کے امن کو چیلنج کرنے لگے ہیں جس سے بھارت بھر میں بے چینی، بے سکونی،عدم رواداری،عدم برداشت اور عدم تحفظ کا بے حد خوفناک دہشت زدہ ماحول مقبوضہ وادی سے جنوبی ہند تک کی اْن ریاستوں میں اب اپنے زہریلے پنجے گاڑنے لگا ہے ان ریاستوں کے عوام نئی دہلی کی ’’ہندوتوا‘‘حاکمیت کو اب کسی صورت میں قبول کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے پانچ اگست کوآرایس ایس کی نئی دہلی سرکار نے مقبوضہ وادی کے بھارت کے ساتھ عارضی الحاق کے تاریخی آرٹیکل تین سوستر اور پینتیس اے کو مشکوک اور ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرکے وادی کے عارضی الحاق کا ناطہ بھی منقطع کردیا وادی میں دس پندرہ لاکھ فوجی دستے اتارے دیئے گئے وادی کو چہارجانب سے سخت کرفیو لگاکر قید وبند سے دوچار کردیا گیا ہے، بھارتی مسولینی اور ہٹلر جیسی سیاسی حرکات وسکنات کے پیروکار مودی سرکار کے اس انسانیت کش اقدام پر دیش کے اندر سے اور پوری دنیا سے نئی دہلی پربڑی شدید لعن وطعن کا شروع ہوئے اکیس بائیس روز ہوچکے ہیں اور مودی کی اس حرکت پر کڑی تنقید کا یہ سلسلہ اب تک جاری ہے وادی میں نافذ فوجی نگرانی میں کرفیو کے علاوہ وہاں کے لینڈلائن نمبرز بند ہیں انٹرنیٹ سروس گزشتہ اکیس بائیس دن سے معطل ہے اخبارات شاءع نہیں ہورہے مقبوضہ وادی کا رابطہ دنیا سے ٹوٹا ہوا ہے مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام بنا اطلاع اپنے گھروں میں مقید کردئیے گئے ہیں پہلے سے کسی بھی کشمیری فرد کویہ اندازہ نہیں تھا اب ذرا تصور تو کریں کہ روز کے روز کمانے والوں کے گھروں میں مقید افراد کس طرح اپنی زندگیوں کی گھڑیاں بسرکررہے ہوں گے;238;مقبوضہ وادی کے اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے سلسلے میں جو طالب علم وادی سے باہر تھے اْن کا رابطہ اپنے پیاروں سے ہوپارہا ہے یا نہیں ;238;یہ ایک سوال ہے جو کشمیری اپنے کاروبار کے سلسلے میں بھارتی مختلف ریاستوں کے شہروں میں رہ گئے ہیں اْنکا کیا حال ہوگا;238; یہ بھارتی بزرجمہوروں نے سوچاتک نہیں ;238; اجیت دووال کے مشورے پر مودی اور امیت نے یہ انتہائی قدم اْٹھاتو لیا انجام کا کوئی ’’اوپائے‘‘ تھا انکے پاس;238; اس کا جواب ان کے پاس نہیں ہے یہ تو بس مسلم دشمنی میں اتنے اندھے اوراتنے بے باک ہوچکے ہیں کہ پاکستان اور مسلمان کشمیریوں کی زہریلی نفرتوں کے چتاؤں میں ہمہ وقت جلنے والے اب تحریک آزادی کشمیر کی پْرامن جدوجہد کو عالمی بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم داعش سے جوڑنے کی مزید خطرناک سازشوں کے پیچھے چھپنے کی باتیں ان ہی کے کارسیکوں کے ذریعے سے ’’گودی میڈیا‘‘ میں گردش کرنے لگی ہیں ، کبھی راگ الاپا جارہا ہے کہ ’’الظواہری‘‘ کی قیادت میں القاعدہ مقبوضہ وادی میں داخل ہوچکی ہے;238;انصار غزوۃ الہند نامی دہشت گرد تنظیموں کے ناموں کے پیچھے چھپ کر دنیا کو پھرسے نیا دھوکہ دینا چاہ رہے ہیں مگر ہ میں اور اب تو دنیا کو بھی یقین ہے کہ یہ ناکام ہی رہیں گے کیونکہ پاکستان نے ایسی ہر ملمہ ساز بھارتی سازشوں کو وقوع پذیرہونے سے قبل اپنی سریع الحرکت کامیاب سفارتی کاری کو بروئے کارلاکر غیر جانبدار عالمی میڈیا کو چوکنا کردیا ہے پاکستان نے اس بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل اور غیر مستقل ارکان سے مسلسل اپنے رابطے رکھے ہوئے ہیں جسکے بہت مثبت نتاءج نمایاں ہوئے اور سلامتی کونسل نے بھارت پر اپنا دباوَ بڑھا دیا ہے کہ مقبوضہ وادی میں پہلی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کو ہرقیمت پر وہ یقینی بنائے امریکا،چین اور روس نے گزشتہ پچاس برسوں میں پہلی مرتبہ بھارتی زیر کنٹرول کشمیر میں بھارتی اقدامات پر اپنی بڑی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative