بیس ہزارگھروں کی تعمیرکاسنگ بنیاد

37

اکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے منشور کے مطابق عوام سے جووعدے کئے تھے اب وہ انہیں عملی جامہ پہنانے کی جانب گامزن ہے،کسی بھی معاشر ے میں تین بنیادی ضروریات ہوتی ہیں اگر وہ پوری ہوجائیں تو اس سے معاشرہ بلکہ قو میں ترقی کی راہ پرگامزن ہوجا اتی ہیں ، تعلیم تو ایک بنیادی جزو ہے اس کے ساتھ ساتھ روٹی ،کپڑا اورمکان یہ تین ایسی چیزیں ہیں جوبنیادی ضروریات ہیں ۔ فی زمانہ سرچھپانے کے لئے چھت بناناناممکن ہے اس مہنگائی کے دور میں جب ہرچیز کو آگ لگی ہو،دووقت کی روٹی پوری کرناناممکن ہو ایسے میں اگر رہنے کے لئے اپنا ایک مناسب گھرمیسرہوجائے تووہ کسی نعمت سے کم نہیں ۔ اس سلسلے میں حکومت پالیسی کی جانب گامزن ہے اور اُس کی کوشش ہے کہ جووعدے کئے تھے اُ ن کوعملی جامہ پہناسکے ۔ ابتداء میں وزیراعظم نے بیس ہزارگھروں کا سنگ بنیادرکھ دیاہے جو کہ انتہائی خوش آئنداقدام ہے چونکہ ضرورت بہت زیادہ ہے یہ تعداد کم ہے بہرحال کیونکہ ابھی ابتداء ہے اس میں لامحالہ اضافہ ہوگا اورمختلف شہروں میں منصوبے شروع کئے جائیں گے ۔ وزیراعظم عمران خان نے ہاءوسنگ سکیم کے تحت 20ہزار گھروں کی تعمیر کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی نیچے جا رہی ہے، شرح سود بھی نیچے آئے گی ، لوگوں کےلئے قرض لے کر اپنا گھر بنانا آسان ہو جائے گا،تعمیراتی صنعت کو فروغ دینے کےلئے کام کر رہے ہیں ،کوئی بھی کام شروع کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے، ہزار میل سفر کرنے کےلئے بھی پہلا قدم اٹھانا پڑتا ہے، یہ منصوبہ شروعات ہے، پانچ سال میں 50لاکھ گھر بنانا ہیں ،ہ میں یہاں تک پہنچنے کےلئے ڈیڑھ سال لگا، ہ میں نیا سٹرکچر ،نئی ہاءوسنگ اتھارٹی بنانی پڑی، ہم پاکستان کو صحت کا تحفظ اور پاکستان کو ایک نظام تعلیم دیں گے، بد انتظامی کی وجہ سے پاکستان میں تین نظام تعلیم بن چکے ہیں ، ساری قوم کو ایک ہی سلیبس پڑھنا چاہیے، ایسے تین طبقوں میں تقسیم ہو کر ہم ایک قوم نہیں بن سکتے ۔ کوئی بھی کام شروع کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے، ہزار میل سفر کرنے کےلئے بھی پہلا قدم اٹھانا پڑتا ہے، یہ منصوبہ شروعات ہے ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس رہائشی منصوبے میں شفافیت انتہائی ضروری ہے ایسانہ ہوجیساکہ ماضی میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ہوتارہا کہ ادارہ ہٰذا کے افسران ہی حق داروں کاحق تلف کرکے رقوم ہڑپ کرتے رہے اورغریب بیچارے فاقہ کشی پرمجبوررہے ۔ یہ مکان کس کودینے ہیں اس کا طریقہ کارکیاہوگا اورپھرعوام سے جورقوم لی جائیں گی اس کی ادائیگی کاطریقہ کاربھی انتہائی سہل ہوناچاہیے کیونکہ حکومت نے ابھی چھت فراہمی کی جانب قدم اٹھایا ہے لیکن روزگار کے مواقع ابھی رہتے ہیں معاشی طورپربھی اتنا استحکام نہیں کہ لوگ کاروبارکرکے کچھ کماسکیں گوکہ بین لا اقوامی مارکیٹ سے تیل کی صورت میں ریلیف سامنے آرہاہے اب اس سے کیافائدہ اٹھایا جاسکتاہے یہ تو حکومت ہی فیصلہ کرے گی ۔ نیزوزیر اعظم عمران خان سے اوورسیز انویسٹرز چیمبر ;200;ف کامرس اینڈ انڈسٹری کی منیجنگ کمیٹی نے ملاقات کی ۔ وزیرِ اعظم کو بتایا کہ چیمبردو سو کمپنیوں پر مشتمل ہے جو کہ35 ممالک میں موجود ہیں اور مختلف شعبوں میں کاروباری سرگرمیاں سر انجام دے رہی ہیں ۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہاکہ کاروباری برادری کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، کاروباری برادری کو مزید ;200;سانیاں فراہم کرنے کےلئے پر عزم ہیں ، موجودہ حکومت کاروباری برادری کی مشاورت سے پالیسوں کی تشکیل ، پالیسیوں پر من و عن عمل در;200;مد اور ان کا تسلسل چاہتی ہے،حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ کاروباری طبقے کو مطلوبہ استحکام کی فضا کی فراہمی کو یقینی بنا یا جائے ۔ ملک میں بہتر سیکورٹی اور امن و امان کی صورتحال اور حکومت کی جانب سے کاروبار موافق پالیسیوں کے اجرا نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے ۔ حکومت کا سرمایہ داروں کو سہولیات فراہم کرنا بھی ایک مستحسن اقدام ہے اس سے کاروباری مواقع پیدا ہوں گے اورساتھ ساتھ لوگوں کو روزگاربھی ملے گا ۔ جب تک ہمارے ملک میں سرمایہ کاردوستانہ ماحول نہیں بنتا اس وقت تک معاشی ترقی ممکن نہیں ۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ چھوٹے کاروبارکی جانب بھی توجہ دے اورجو بھی بزنس کرنا چاہتا ہے اس کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں ۔

جنوبی پنجاب میں صوبہ بنانے کی طرف عملی پیشرفت

متعلقہ خبریں

جنوبی پنجاب میں نیاصوبہ فریم کرنے کے حوالے سے حکومت اقدامات اٹھارہی ہے اس کے لئے انتظامی فریم ورک کے حوالے سے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تمام طریقہ کارواضح کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ صوبہ ایک ہی ہوگا تاہم اس کے سیکرٹریٹ دوہوں گے ۔ چونکہ یہ ایک دیرینہ خواہش تھی اسے پایہ تکمیل تک پہنچناچاہیے لیکن حکومت کے پاس خاطرخواہ اکثریت نہیں ایسے میں اگراپوزیشن تعاون کرے گی تب ہی ایوان میں اکثریت سے اس حوالے سے بل پاس ہوسکتاہے یہ ایک تعمیری قدم ہے اپوزیشن کوبھی چاہیے کہ وہ اس حوالے سے مثبت ردعمل دکھائے ۔ وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے نجی ٹی وی چینلزسے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ بہاولپور اور ملتان دونوں جگہ سیکرٹریٹ بنایا جائے گا ، ایک جگہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساءوتھ جبکہ دوسری جگہ ایڈیشنل آئی جی ساءوتھ بیٹھیں گے ، جنوبی پنجاب ایک ہی صوبہ بنے گا، یہ گیارہ اضلاع پر محیط ہے ، اس کی آبادی ساڑھے تین ہزار کروڑ ہے ، یہ خیبرپختونخوا کے برابر کا صوبہ بنے گا، جنوبی پنجاب کا صدر مقام کہاں بنے گا یہ فیصلہ جنوبی پنجاب کی اسمبلی کرے گی،ا س بل کےلئے دو تہائی اکثریت ہمارے پاس نہیں ہ میں دیگر سیاسی جماعتوں کا سہارا چاہیے ہوگا ، (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی بھی جنوبی پنجاب پر صوبے کے خلاف نہیں ہیں ،جنوبی پنجاب کے منتخب ارکان جنوبی پنجاب صوبے کےلئے اپنا کردارادا کرنا ہوگا ، اس سے وفاق مضبوط ہوگا ، اس کےلئے سیاسی جماعتوں سے بات کی جائے گی ۔ نیاصوبہ بنانے کے بہت سے مثبت پہلو ہیں ایک تواُن علاقوں کے عوام کے مسائل ادھرہی حل ہو ں گے جہاں وہ رہتے ہیں دور درازعلاقوں سے رابطوں کی ضرورت نہیں پڑے گی پھرعلاقہ ترقی بھی کرے گا ،وفاق کو بھی اس کوفائدہ پہنچے گا اور جنوبی پنجاب میں جو محرومیاں انہیں بھی دور کیاجاسکے گا ۔

شہیدونگ کمانڈرنعمان اکرم کوزبردست خراج عقیدت

23مارچ کی ریہرسل کے دوران پرازایف16گر کر تباہ ہوگیا اورپائلٹ ونگ کمانڈر نعمان اکرم شہادت کے رتبے پرفائزہوگئے یہ حادثہ اسلام آبا د میں پیش آیا اہم ترین بات یہ ہے کہ پائلٹ نے اپنی جان ،جان آفرین کے سپردکردی لیکن انہوں نے آبادی کوبچالیا ۔ آج انکے یہ الفاظ سچ ثابت ہوئے کہ انہوں نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویودیتے ہوئے کہاتھا کہ قوم آرام اورسکون سے رہے ان کی حفاظت محفوظ ہاتھوں میں ہے اورجب کبھی قربانی دینے کی ضرورت پڑی تو ہم اس سے دریغ نہیں کریں گے اورپھرنعمان اکرم نے یہ ثابت کرکے دکھایا ۔ اس میں کوئی شک وشبہ والی بات نہیں کہ ہماری مسلح افواج ملکی حفاظت واستحکام کےلئے ہمہ تن گوش ہیں اورجب کبھی بھی کوئی ایساموقع آیا تو انہوں نے قربانی سے قطع طورپردریغ نہیں کیا ۔ اس کی زندہ مثال نعمان اکرم کی قربانی ہے کہ جب انہوں نے طیارے کوگرنے سے قبل آبادی سے بچاتے ہوئے ایسی جگہ لے گئے جہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔ ;200;رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فراءض کی انجام دہی کے دوران شہید ہونے والے ونگ کمانڈر نعمان اکرم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ مادر وطن کے دفاع کی خاطر جان دینا بڑی قربانی ہے، اللہ نعمان اکرم کو جوار رحمت میں جگہ دے، ونگ کمانڈر کے لواحقین کے غم میں شریک ہیں ۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس ;200;ف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا ،ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان ، نیول چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے نمازجنازہ میں شرکت کی ۔ صدر وزیر اعظم کی جا نب سے بھی شہید نعمان اکرم کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ قومی اسمبلی میں پائلٹ ونگ کمانڈر نعمان اکرم کی شہادت پر ان کےلئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔ پاکستان کی تاریخ شہدا کی عظیم قربانیوں سے بھری ہوئی ہے جو ملک و قو م کیلئے فخر کاباعث ہے ۔ ا للہ تعالیٰ ونگ کمانڈر شہید نعمان اکرم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلخانہ کو صبرجمیل عطا فرمائے ۔ طیارہ حادثے پرپوری قوم کوصدمہ پہنچاہے یہ سانحہ بھی ملک کا ایک حصہ ہے ۔