- الإعلانات -

مشتاق چینی کا شہباز شریف کے بیٹوں کیلئے منی لانڈرنگ کا اعتراف

 لاہور: سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے بیٹوں کے مبینہ فرنٹ مین مشتاق چینی نے شریف فیملی کے لیے منی لانڈرنگ کا اعتراف کرلیا اور نیب کی تحقیقاتی ٹیم نے اس پیش رفت کو بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

مشتاق چینی اور اس کے بیٹے یاسر چینی نے احتساب عدالت میں اپنا تحریری بیان ریکارڈ کرا کر اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سلمان شہباز کی 69 کروڑ روپے سے زائد رقم کی منی لانڈرنگ کی، اس کام کے لیے میرے اور میرے بیٹے یاسر مشتاق کے بینک اکاؤنٹس استعمال کیے گئے۔

مشتاق چینی نے انکشاف کیا کہ شریف فیملی کے کمپنیز کے چیف فنانشل آفیسر محمد عثمان سے ملاقات ہوئی، عثمان نے کہا کہ سلمان شہباز کے 69 کروڑ روپے وائٹ کرنے ہیں، میں نے انکار کیا کہ یہ میرے بس کی بات نہیں ہے، تو عثمان نے کہا کہ ہم صرف آپ کے بینک اکاؤنٹ استعمال کرنا چاہتے ہیں جن کے زریعے ٹی ٹی لگوانی ہے، میں نے پرانے تعلقات اور پیسہ وائٹ ہونے کی لالچ سے اجازت دے دی، چیف منسٹر کا بیٹا اور وزیراعظم کا بھتیجا ہونے کے باعث میں انکار بھی نہیں کرسکا۔

مشتاق چینی نے بتایا کہ 2014 میں میرے اکاونٹ سے 21 کروڑ 40 لاکھ کی ٹی ٹی لگوائیں، جب رقم میرے اکاونٹ میں آتی میں سلمان شہباز کے نام سے چیک کاٹ کر محمد عثمان کو دیتا تھا، 2014 میں پھر 29 کروڑ 30 لاکھ کی رقم پر ٹی ٹی لگوائی گئی، جن لوگوں کے ناموں سے ٹی ٹی لگوائی گئی میں انکو نہیں جانتا، محمد عثمان نے اتنی رقم کے برابر چیکس مجھے کاٹ کر دے دیے، میں نے متعلقہ کاغذات اور دستاویزات پر اپنے دستخط کیے، 50 کروڑ سے زائد کی رقم جعلی اور فرضی اکاونٹس سے میرے اکاونٹ میں منتقل کی گئی۔

مشتاق چینی نے کہا کہ سلمان شہباز کی وقار ٹریڈنگ کمپنی جو کہ طاہر نقوی کے نام سے بنائی گئی تھی، اس کمپنی سے میرے اکاونٹ میں 10 کروڑ کی رقم بذریعہ چیک آئی، سلمان شہباز نے ان ساری ٹرانزیکشن کو قانونی ثابت کرنے کے لیے 2 مفروضی معاہدے کیے، ایک میں میرا نام اور دوسرے میں میرے بیٹے یاسر مشتاق کا نام لکھا گیا، معاہدے میں یہ رقم بطور قرض ظاہر کی گئی، معاہدوں کی نقول نیب کو فرہم کر دی ہیں۔

مشتاق چینی نے مزید کہا کہ مفروضی قرضوں کو حقیقی رنگ دینے کےلیے سلمان شہباز نے اپنی جعلی کمپنی سے رقم میرے اکاونٹ میں بھی منتقل کروائی، میں کاروبار اور پیسہ وائٹ ہونے کے لالچ میں یہ کام کرتا رہا، مجھے اپنے گناہ کا احساس ہے، مجھے معافی دی جائے۔