- الإعلانات -

بھارتی ملٹری کیمپس پر حملوں کو روکنے میں ناکامی پر اعلیٰ فوجی افسران کی چُھٹی

نئی دلی: بھارت میں 2016 اور 2018 میں 3 فوجی کیمپوں پر مسلح افراد کے حملے کو روکنے میں ناکامی پر اعلیٰ فوجی افسران کو برطرف کردیا گیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں اوڑی، نگروٹا اور سنجوان کے مقام پر واقع بھارتی فوجی کیمپوں پر مسلح افراد کے حملے میں مجموعی طور پر 30  اہلکار ہلاک ہوئے جب کہ  تحقیقاتی کمیشن نے ان حملوں کا ذمہ دار اعلیٰ افسران کی نااہلی اور غفلت کو قرار دیا۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ فوجی بیس کی حساسیت کو مدنظر نہیں رکھا گیا اور سیکیورٹی کے ناقص انتظامات کیے گئے جس کے باعث مسلح افراد  بآسانی حدود میں داخل ہوگئے اور بھاری فوج کو جانی و مالی نقصان اُٹھانا پڑا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ حفاظتی انتظامات میں کافی جھول تھے، کمانڈرز نے اپنی ذمہ داریوں کو ڈھنگ سے نہیں نبھایا، اوڑی اور نگروٹا میں 2016 میں حملے ہوئے اس کے باوجود سنجیدگی نہیں دکھائی گئی جس کا خمیازہ 2018 میں سنجوان فوجی کیمپ پر حملے کی صورت بھگتنا پڑا۔

کمیشن کی سفارش پر وزارت دفاع نے تینوں فوجی کیمپ میں تعینات اعلیٰ افسران کو ملازمتوں سے برخاست کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، ان افسران کو جبری ریٹائرمنٹ پر بھیج دیا جائے گا اور وہ پینشن سمیت کسی قسم کی مراعات کے مستحق نہیں ہوں گے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اوڑی فوجی کیمپ پر 18 ستمبر 2016 کو حملے میں 17 اہلکار مارے گئے تھے جب کہ اسی سال 29 نومبر کو نگروٹا فوجی بیس پر حملے میں 7 اہلکار ہلاک ہوئے اسی طرح سنجوان فوجی کیمپ پر 10 فروری 2018 کو حملہ کیا گیا تھا جس میں 6 اہلکار قتل ہوئے تھے۔