- الإعلانات -

آصف زرداری نے حساب کتاب بند کرنے کا مطالبہ کرکے این آر او مانگا ہے، فردوس عاشق

 اسلام آباد: وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری نے حساب کتاب بند کرنے کا مطالبہ کرکے این آر او مانگا ہے جبکہ الیکشن کمیشن کا وزیراعظم کو شوکاز نوٹس تعجب سے کم نہیں۔

فردوس عاشق اعوان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ کے سابق رکن اور ایم این اے علی محمد مہر کے انتقال پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کرنے پر الیکشن کمیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو جاری کردہ شوکاز نوٹس کسی تعجب سے کم نہیں؟، وزیراعظم نے وہاں میڈیا سے کوئی گفتگو کی نہ ہی روایتی سیاستدانوں کی طرح ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات کئے۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات نے کہا کہ سندھ حکومت سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے الیکشن سے قبل دھاندلیوں میں ملوث ہے، سندھ حکومت کے وزراء کی انتخابی مہم کے لیے باقاعدہ ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں، اس کے علاوہ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی طرف سے سیکڑوں کی تعداد میں نوکریاں، پیکیج اور ترقیاتی منصوبوں کے اعلان کیے گئے ہیں۔

فردوس عاشق اعوان نے مزید کہا کہ ایک جانب سندھ حکومت کے وزراء الیکشن کمیشن کے قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑا رہے ہیں تو دوسری طرف پیپلز پارٹی کے امیدوار سندھ پولیس کے پروٹوکول میں اپنی انتخابی مہم  چلا رہا ہے، الیکشن کمیشن ان بے ضابطگیوں پر کیوں خاموش ہے اور اس کا نوٹس کیوں نہیں لیا جا رہا؟۔

بعدازں فردوس عاشق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو نوٹس کا مطلب ہے ادارے اب بھی بااختیار نہیں ہوئے، الیکشن کمیشن کو بااختیار بنانے کی ضرورت ہے جسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے، سندھ میں موجود الیکشن کمیشن اچانک جاگ جاتا ہے، وہاں الیکشن کمیشن کا کردار نظر نہ آنا بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، آئینی کردار کو صرف یک طرفہ استعمال کیا گیا ہے۔

فردوس عاشق نے آصف زرداری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کل نیب کے ایک وی آئی پی قیدی پروڈکشن آرڈر کے ذریعے پارلیمنٹ آئے اور حساب کتاب بند کرنے کا مطالبہ کرکے دبے لفظوں میں حکومت سے این آر او مانگا، طاقت ور کا قانون کے شکنجے میں آنا عمران خان کے بیانیے کی جیت ہے، جزا سزا سے کوئی نہیں بچ سکتا اور قانون کا اطلاق سب پر ہوگا کیونکہ یہ نیا پاکستان ہے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حلقہ این اے 205 گھوٹکی کا دورہ کرنے پر وزیراعظم عمران خان کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کرتے ہوئے 7 روز کے اندر جواب طلب کرلیا ہے۔