- الإعلانات -

امریکا کی خامنہ ای اور ایرانی وزیر خارجہ پر پابندی: ایران کا رد عمل

تہران: ایران نے امریکا کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور وزیر خارجہ جواد ظریف پر پابندیاں کیے جانے کی مذمت کی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی راستہ مکمل طور پر بند ہوگیا ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور وزیر خارجہ جواد ظریف کے خلاف پابندیاں بے نتیجہ ہیں، ٹرمپ منتظمین عالمی سطح پر قائم امن اور سیکیورٹی کو تباہ کر رہے ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ چند ہفتوں کے دوران کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی مشیر قومی سلامتی جان بولٹن نے مقبوضہ بیت المقدس کے دورے پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکی صدر نے حقیقی مذاکرات کے لیے دروازہ کھلا رکھا ہے تاہم مذاکرات کے جواب میں ایرانی خاموشی قابل غور ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی امریکی مشیر قومی سلامتی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے مطالبے کے بعد کیا وزیر خارجہ پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، پابندیوں سے ظاہر ہے کہ امریکا جھوٹ بول رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق  ایران کی جانب سے امریکی فوجی ڈرون گرائے جانے کے بعد ایران پر مزید پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ امریکی صدر نے ایران پر دباؤ جاری رکھنے اور ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دینے کا عندیہ بھی دیا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے معاہدے کو یک طرفہ طور پر منسوخ کرنے کے بعد سے  ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔