- الإعلانات -

ایران کا یورینیم افزودگی کے لیے جدید ترین سینٹری فیوجز کا استعمال

تہران: ایران نے یورینیم افزودگی کے لیے جدید ترین سینٹری فیوجز استعمال کرکے عالمی طاقتوں سے کیے گئے جوہری معاہدے کی ایک اور شق سے انحراف کردیا۔  

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی نیوکلیئر ایجنسی کے ترجمان بہروز کمالوندی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں اس وقت 40 جدید سینٹری فیوجز آپریشنل ہیں جنہیں یورینیم افزودگی، ریکٹر فیول اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال بھی کرسکتے ہیں۔

ایران نے امریکا کی جانب سے عالمی قوتوں کے 2015 کے معاہدے سے دستبردار ہو کر ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کی تھیں جس کے جواب میں ایران نے بھی معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یورینیم افزودگی کی حد سے تجاوز کیا اور اب جدید ترین سینٹری فیوجز کا استعمال بھی شروع کردیا ہے۔

ادھر امریکی صدر نے جدید ترین سینٹری فیوجز کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران کو عالمی قوتوں سے نئے جوہری معاہدے کے لیے راضی کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں تاکہ ایران کو جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ  بیلسٹک میزائل بنانے سے بھی باز رکھا جاسکے۔ تاہم ایران نے امریکا کی جانب سے پابندیاں اُٹھانے تک بات چیت کرنے سے انکار کردیا ہے۔

دوسری جانب عالمی جوہری معاہدے کے دیگر فریقین برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس نے امریکا کی علیحدگی کے باوجود معاہدے کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے تاہم امریکی پابندیوں کے باعث ان ممالک کو ایران سے تیل برآمد کرنے پر مشکلات کا سامنا ہے اور ایران چاہتا ہے کہ یہ ممالک امریکی پابندیوں کو نظر انداز کردیں۔