- الإعلانات -

وفاقی اداروں کے سربراہان کی تقرری؛ حکومت کو سخت قانونی پیچیدگیوں کا سامنا

اسلام آباد: وفاقی اداروں  کے سربراہان کے تقرر کے حوالے سے وفاقی حکومت کو سخت قانونی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک اور بڑا آرڈر جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو چئیرمین پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کی جگہ روز مرہ کے امور چلانے کے لئے عارضی انچارج مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے، عدالت نے حکومت کو سختی سے حکم دیا ہے کہ روز بروز کے معاملات دیکھنے کے لئے تقرر کرتے ہوئے پی اے آر سی 1981 کے قانون میں دئیے گئے معیار کو مدنظر رکھا جائے۔

چئیرمین پی اے آر سی تقرری کے خلاف کیس میں  اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دو صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کیا ہے ، عدالت کے تحریری حکم کے مطابق عدالت کو درخواست گزار وکیل ظفر اقبال چوہدری کی جانب سے بتایا گیا کہ قائم مقام چئیرمین پی اے آر سی ایوب چوہدری بغیر توسیع عہدے پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں  قائم مقام چئیرمین ایوب چوہدری کا دورانیہ 11 اگست کو ختم ہو چکا تھا جس میں  اب تک حکومت کی جانب سے توسیع نہیں  کی گئی۔

عدالت عالیہ کے تحریری حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت عارضی انچارج پی اے آر سی 1981 قانون کے مطابق تعیناتی کرے، پاکستان ایگریکلچرریسرچ کونسل کے امور چلانے کے لیے تعیناتی کرتے ہوئے حکومت عارضی انتظام کرنے میں  قانون کو سختی سے مدنظر رکھے، وفاقی حکومت کونسل کے امور چلانے کے لیے عارضی انتظام کرسکتی ہے، عدالت نے وفاقی حکومت کی درخواست پر جواب جمع کرانے کے لئے ایک ہفتے کا دیتے ہوئے کیس 19 ستمبر کو دوبارہ سماعت کے لئے مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل نیشنل ایگریکلچر ریسرچ کونسل ڈاکٹر غلام محمد علی نے ایڈیشنل سیکریٹری وزارت فوڈ اینڈ سیکیورٹی محمد ایوب چوہدری کی بطور چئیرمین پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل تعیناتی کو چیلنج کررکھا ہے ،پٹیشن کے مطابق ڈاکٹر غلام محمد علی پی اے آر سی میں  سینئر ترین سائنسدان ہیں۔

واضع رہے اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ وفاقی ٹیکس محتسب مشتاق سکھیرا کی برطرفی کے حوالے سے حکومتی نوٹیفکیشن کو معطل کرکے حکم امتناع جاری کرچکی ہے ، الیکشن کمیشن کے دو نئے ممبران کی تعیناتی کے حوالے سے کیس میں  بھی حکومت کو نوٹس جاری ہو چکا ہے۔ چئیرمین سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پالیسی بورڈ خالد مرزا کی برطرفی کے حکو متی نوٹیفکیشن کو معطل کرکے حکم امتناع جاری کیا جاچکا ہے۔