- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 135واں روز، بھارتی فوج نے مزید 3 نوجوانوں کو شہید کردیا

مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی جاری ہے،ضلع راجوڑی میں محاصرے کی آڑمیں فائرنگ کرکے3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا گیا۔

بھارت کی جانب سےمقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنےکےبعدسےمقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ ہے جسکے باعث مواصلاتی نظام، تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز 135 ویں روز بھی بند ہیں۔بھارت کے ظالمانہ ہتھکنڈوں کے باعث ساڑھے 4 ماہ سے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام بنیادی حقوق اور ضروریاتِ زندگی سے محروم ہیں اورشہریوں کوسخت سردی میں بنیادی ضروریات زندگی کی عدم فراہمی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے،مقبوضہ کشمیر میں موبائل انٹرنیٹ سروس اب بھی معطل ہے۔بھارتی فوج نے ضلع راجوڑی میں منگل کے روز سے محاصرہ کررکھا ہے اور محاصرے کی آڑ میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے 3 نوجوان شہید ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب بھارتی سیکیورٹی فورسز نے سری نگر کے اسلامیہ کالج کے باہر متنازع شہریت ایکٹ کیخلاف احتجاج کی کوریج کرنے کے دوران صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔کشمیری صحافیوں کا کہنا ہے کہ مظاہرے میں شریک نوجوانوں کی گرفتاری کی تصویریں کھینچنے پرسیکیورٹی فورسزنےاُن پر حملہ کیا،فون بھی مانگے جبکہ اپنی شناخت ظاہر کرنے کے باوجود ان پر تشدد کیا گیا۔بھارت نے 5 اگست 2019 کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔بھارت نے یہ دونوں بل لوک سبھا سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے۔