- الإعلانات -

اسلامو فوبیا کے مقابلہ کیلئے ٹی وی چینل، ملائیشیا اور ترکی نے قطر کو شامل کرلیا، کیا پاکستان منصوبے سے آﺅٹ ہوگیا؟ اب تک کی بڑی خبر آگئی

 اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کیلئے تجویز کیے گئے ٹی وی چینل کے منصوبے میں قطر کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔مشترکہ ٹی وی چینل کے حوالے سے یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ اس میں سے پاکستان کو آﺅٹ کردیا گیا ہے لیکن حقیقت میں اس منصوبے میں چوتھے ملک کے طور پر قطر کو شامل کیا گیا ہے۔

ملائیشیا کے وزیر خارجہ سیف الدین عبداللہ نے کوالا لمپور سمٹ سے اپنے خطاب میں کہا کہ جب ملائیشیا کوئی سمٹ کرتا ہے تو کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم امت کو تقسیم کر رہے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ لوگ اس بات کو درست سمجھتے ہیں کہ دوسرے ملکوں پر بم برسائے جائیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مسلم امہ میں جاپان اور جنوبی کوریا جیسی کامیابی کی کون سی مثال ہے جو پیش کی جاسکتی ہو؟

مسلمان ممالک کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ملائیشین وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ ہم ایک ٹی وی چینل بنانے کے حوالے سے کام کر رہے ہیں ، جو کہ ترکی ، قطر اور ملائیشیا کی مشترکہ کاوش ہوگی۔‘

کوالا لمپور سمٹ کے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر وزیر خارجہ سیف الدین کا یہ بیان ٹویٹس کی شکل میں جاری کیا گیا ہے جن میں پاکستان کا نام نہیں ہے۔ ٹی وی چینل کے منصوبے میں پاکستان کا نام نہ لیے جانے پر لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ شاید اس منصوبے سے پاکستان کو آﺅٹ کرکے قطر کو شامل کیا گیا ہے۔

اس میں غلطی کوالا لمپور سمٹ کے ٹوئٹر اکاﺅنٹ کی بھی ہے جنہوں نے اپنے ٹویٹس میں پاکستان کا تذکرہ نہیں کیا۔ ابتدائی ٹویٹس کے 2 گھنٹے بعد انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس کو درست کرکے انہوں نے ایک علیحدہ ٹویٹ میں پاکستان کا نام بھی دے دیا جس سے پاکستان کے ٹی وی چینل منصوبے سے آﺅٹ ہونے کی خبریں دم توڑ گئیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اس سمٹ میں شرکت کرنا تھی لیکن مبینہ طور پر سعودی دباؤ کے باعث وہ ملائیشیا نہیں جاسکے، بعد ازاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھی سمٹ میں شرکت سے روک دیا گیا ۔ پاکستان کی کوالالمپور کانفرنس میں عدم شرکت کے باعث انٹرنیشنل اور پاکستان کے قومی میڈیا پر طرح طرح کی خبریں گردش کرتی رہتی ہیں۔

کوالا لمپور سمٹ کے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کیلئے مجوزہ ٹی وی چینل کے حوالے سے کی جانے والی ٹویٹس کے سکرین شارٹس کو ہم اس خبر کا حصہ بھی بنا رہے ہیں۔ ان سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ کچھ ٹویٹس ’4 گھنٹے‘ پہلے کیے گئے ہیں لیکن پاکستان کے حوالے سے کیے جانے والے ٹویٹ پر’ 2 گھنٹے پہلے ‘ لکھا ہوا آرہا ہے۔