- الإعلانات -

بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ضلع چکوال میں جوڑ توڑ شروع ہوچکا ہے،

بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ضلع چکوال میں جوڑ توڑ شروع ہوچکا ہے، نئے بلدیاتی ایکٹ کے مطابق ضلع چکوال میں چھ میونسپل کمیٹیوں اور پانچ تحصیل کونسلوں میں جماعتی بنیادوں پر براہ راست ووٹوں کے ذریعے چیئرمین اور وائس چیئرمین کا الیکشن ہوگا، جبکہ نیبر ہڈ اور ویلج کونسل کا الیکشن غیر جماعتی بنیادوں پر ہوگا۔ ویلج کونسل اور نیبر ہڈ کونسل کا الیکشن متناسب نمائندگی کے تحت ہوگا اور سب سے زیادہ ووٹ لینے والا مذکورہ کونسل کا چیئرمین ہوگا۔ ویلج اور نیبر ہڈ کونسل کا حلقہ ہزار سے12سو افراد کی آبادی پر مشتمل ہوگا۔ پنجاب حکومت نے نئے بلدیاتی ایکٹ کے تحت ضلع کونسل کو ختم کردیا ہے اور اس وقت پانچ تحصیل کونسلیں فنکشنل ہونے کے قریب ہیں جس میں ایڈمنسٹریٹر پہلے ہی تعینات کر دیے گئے ہیں جو سرکاری افسران پر مشتمل ہیں ۔ ضلع چکوال میں پی ٹی آئی، مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق بڑی سیاسی جماعتیں ہیں جبکہ دیگر چھوٹی جماعتیں اور مقامی دھڑے انہی تینوں بڑی جماعتوں کیساتھ ایڈجسٹ ہونگے۔ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق کے درمیان اعلیٰ سطح پر اختلافات کھل کر سامنے آرہے ہیں اور ایسی صورتحال میں ضلع چکوال کا سیاسی توازن ایک دفعہ پھر نارمل ہوجائے گا۔ 25جولائی 2018کے انتخابات میں ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوںپر ایم این اے کی ایک نشست پی ٹی آئی کے سردار ذوالفقار دلہہ ، دوسری نشست مسلم لیگ ق کے پہلے چوہدری پرویز الہٰی اور پھر ضمنی الیکشن میں چوہدری سالک حسین نے جیتی ، صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں پی ٹی آئی نے راجہ یاسر ہمایوں سرفراز اور سردار آفتاب اکبر کی صورت میںجیتیں، مسلم لیگ ق نے حافظ عمار یاسر جو پنجاب حکومت کے اس وقت صوبائی وزیر ہیں نے صوبائی نشست پر کامیابی حاصل کی۔ اکلوتی نشست مسلم لیگ ن کے ملک تنویر اسلم سیتھی نے جیتی۔ مخصوص نشستوں پر پی ٹی آئی نے فوزیہ بہرام کو ایم این اے اور آسیہ امجد کو ایم پی اے منتخب کرایا۔ مسلم لیگ ن نے مہوش سلطانہ کو ایم پی اے کی نشست پر کامیاب کرایا۔ جبکہ سینٹ کی نشست پر مسلم لیگ ن کی طرف سے لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقیوم پہلے سے موجو د ہیں۔ بلدیاتی انتخابات میں ہر نشست پر کانٹے دار مقابلے ہونگے ، پی ٹی آئی دو دھڑوں میں تقسیم ہے، مسلم لیگ ن میں اتحاد اور یکجہتی کا فقدان ہے ، البتہ لاوہ اور تلہ گنگ میں مسلم لیگ ق مضبو ط طریقے سے موجود ہے اور اب وہاں چار ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز بھی بلدیاتی نتائج پر بھرپور طریقے سے اثر انداز ہونگے ،یہ الگ بات ہے کہ مسلم لیگ ق اگر پنجاب حکومت سے علیحدہ ہوگئی تو پھر یہ ترقیاتی فنڈز پی ٹی آئی کے ذریعے خرچ کیے جائیں گے۔