- الإعلانات -

ٹریفک پولیس کا قبلہ درست نہ ہو سکا۔ عوام دہائیاں دے دے کر تھک گئے جبکہ ڈی پی او قصور کے واضح احکامات پر بھی ٹریفک پولیس کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔بے ہنگم ٹریفک شہریوں کا مقدر بن گئی،

قصور(ڈسٹرکٹ رپورٹر)ٹریفک پولیس کا قبلہ درست نہ ہو سکا۔ عوام دہائیاں دے دے کر تھک گئے جبکہ ڈی پی او قصور کے واضح احکامات پر بھی ٹریفک پولیس کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔بے ہنگم ٹریفک شہریوں کا مقدر بن گئی، جگہ جگہ ٹریفک جام اورٹریفک پولیس کی سرپرستی میں شہر کے اہم چوراہوں میں غیر قانونی رکشہ سٹینڈز بن گئے۔ٹریفک اہلکار اپنی ڈیوٹیوں سے غائب اور شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر ”منتھلیاں“ اکھٹی کرنے میں مصروف اور ”نذرانے“ وصول کرکے شہر میں دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک داخل کروانے لگے۔ ڈی ایس پی ٹریفک شہر میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کی بجائے لائسنس برانچ میں ”محصور“ ہوکر رہ گئے۔ شہر کی سیاسی، سماجی، فلاحی اور شہری تنظیموں نے آئی جی پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لیکر قصور شہر میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے اور نااہل ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیل کے مطابق عوام کی دہائیاں اور ڈی پی او قصور کے واضح احکامات بھی ٹریفک پولیس کا قبلہ درست نہ کرواسکے۔ بے ہنگم ٹریفک قصور کے شہریوں کا مقدر بن گئی جبکہ ڈی ایس پی ٹریفک شہر میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے عملی اقدامات کی بجائے لائسنس برانچ میں ”محصور“ ہو کر رہ گئے۔ شہر بھر کی سڑکوں چاندنی چوک، نور مسجد چوک، للیانی اڈا چوک، لاہوری گیٹ، دوسہرہ گراؤنڈ،کوٹ عثمان خان، کوٹ مراد خان، چوک شفیع محصولیہ، نظام پورہ روڈ، بھسرپورہ روڈ، نیشنل بنک چوک، بلدیہ چوک،شہباز خان روڈ، پرانا لاری اڈا، چوک نور محل، چونگی کھارا روڈ، قادرآباد چوک، سٹیل باغ چوک اور دیگر مقامات پر ٹریفک جام رہتی ہے جس کے باعث سکول، کالجز اور دفاتر میں جانے والی عوام کوعرصہ دراز سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔عوامی شکایات کے علاوہ قومی اخبارات اور نیوز چینلز پرقصور شہر میں بے ہنگم ٹریفک کے حوالے سے خبریں شائع ہو چکی ہیں مگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر عرصہ دراز سے قصور شہر میں ٹریفک کے نظام کو بہتر نہ بنایا جاسکا ہے۔ ٹریفک اہلکار اپنی ڈیوٹیوں سے غائب رہتے ہیں اور شہر کے داخلی اور خارجی راستوں نیو بس ٹرمینل، قصوربائی پاس روڈ، بھٹی ہسپتال روڈ، کمال چشتی موڑ پر گاڑیوں سے ”نذرانے“ وصول کرتے نظر آتے ہیں اور ”نذرانہ“ وصول کرکے شہر میں دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک داخل کرواتے ہیں۔شہر کی سیاسی، سماجی، فلاحی اور شہری تنظیموں نے آئی جی پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لیکر قصور شہر میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے اور نااہل ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔