- الإعلانات -

امریکہ پاکستان کیساتھ تعلقات مستحکم کرنے کا خواہاں ہے، امریکہ طالبان مذاکرات سے انتہائی پر امید ہوں،امریکی خصوصی نمائندہ برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کا افغان مہاجرین کی میزبانی کے 40 سال مکمل ہونے پر بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر اظہار خیال

 امریکی خصوصی نمائندہ برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کیساتھ تعلقات مستحکم کرنے کا خواہاں ہے، امریکہ طالبان مذاکرات سے انتہائی پر امید ہوں، مشکلات کے باوجود امن عمل میں پیشرفت ہوئی ہے، امن عمل میں پاکستان کا منفرد کردار ہے، جنگ نے افغان حکومت اور عوام کوجانی و مالی مشکلات سے دو چار کیا، امن معاہدہ سے نہ صرف افغان عوام بلکہ پورے خطے کیلئے خوشحالی اور اقتصادی استحکام کے نئے دور کا آغاز ہو گا، افغان مہاجرین کی میزبانی کے چالیس سال مکمل ہونے پر بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے زلمے خلیل ذاد نے کہا کہ پاکستان افغان امن عمل کا ایک اہم رکن ہے، افغان امن عمل بڑا چیلینج ہے لیکن موقع بھی ہے، امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان آپس میں مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن سے وسطی ایشیاءتک رسائی میں آسانی آئیگی اور اقتصادی روابط میں تیزی آئیگی۔ انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کی فراخدلی سے چار دہائیوں تک میزبانی پر پاکستان کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی معیشت کیلئے بھی ہم فکر مند ہیں ،تاہم علاقائی اور پاکستان کا تعاون افغانستان کی معیشت کیلئے بہتر ہوگا۔ زلمے خلیل زاد نے کہا کہ پاکستان نے خلوص دل سے افغان مہاجرین کی میزبانی کی، افغان امن عمل میں مشکلات کے باوجود پیش رفت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، مزاکرات ہی افغان تنازعہ کا واحد حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے بھی سکیورٹی معاملات پر یقین دہانیاں کرائی ہیں۔افغان امن کے لیے پاکستان اور افغانستان کو رابطے بڑھانے ہوں گے۔افغانستان پاکستان اقتصادی تعاون سے امن و ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ زلمے خلیل ذاد نے کہا کہ امریکہ یک طرفہ طور پر بھی افغانستان سے نکل سکتا ہے لیکن ہم نہیں چاہتے کہ افغانستان میں سول جنگ دوبارہ شروع ہو۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کیساتھ مستحکم اور مضبوط تعلقات کیلئے کوشاں ہے۔ افغانستان کے ڈپٹی وزیر خارجہ نے مہاجرین سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا کردار امن عمل میں نہایت اہم ہے ،ہم مہاجرین کی مرحلہ وار واپسی چاہتے ہیں، بات چیت سے ہی تمام معاملات حل ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم تنقید کرتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم آگے نہیں بڑھ سکتے