- الإعلانات -

ایچ آئی وی کا شکار رتوڈیرو کے ایک ہزار سے زائد بچے جنہیں بھلادیا گیا

کراچی: ایڈز (ایکوائرڈ امیونو ڈیفیشنی سنڈروم) کے عالمی دن پر سندھ کے شہر لاڑکانہ کی تحصیل رتوڈیرو میں ایچ آئی وی ( ہیومن امیونو ڈیفیشنسی وائرس) کا شکار ہونے والے بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس رتوڈیرو میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ان بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے ہماری حالت زار کو بھلادیا گیا اور ہم اس بڑی غلطی کے بعد کسی تسلی بخش صورتحال کی طرف واپس آنے کی کوشش کررہے ہیں۔سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام(ایس اے سی پی) کے مطابق 30 نومبر تک 42 ہزار 533 افراد کی اسکریننگ کی گئی جن میں ایک ہزار 438 ایچ آئی سی پازیٹو ہیں، جنہیں رتوڈیرو میں واقع اے آر ٹی سینٹر میں رجسٹرڈ کیا گیا۔

ان میں سے ایک ہزار 76 بچے ہیں جن میں 666 لڑکے اور 410 لڑکیاں ہیں۔ایس اے سی پی نے تصدیق کی کہ رتوڈیرو میں پھیلنے والے اس مرض کے نتیجے میں 34 بچے اور 4 بالغ افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ایک بچی ‘ ای’ جو آلودہ سرنجز سے ایچ آئی وی کا شکار ہوئی تھی، کے والد ‘ایس این ایچ’ نے کہا کہ ‘ جو کچھ رتوڈیرو میں ہوا ہے یہ ایک بڑی غلطی ہے اور کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا خیال تھا کہ میڈیا کی توجہ ملنے سے کچھ بہتری آئی لیکن کچھ تبدیل نہیں ہوا۔بچی کے والد کی جانب سے سوشل میڈیا کے مستقل استعمال کے نتیجے میں بالآخر رتوڈیرو میں ایچ آئی وی/ایڈز کا پھیلاؤ قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں سامنے آیا۔متعدی امراض کے ماہرین کے مطابق، انفیکشن پر قابو پانے کے ناقص طریقوں بشمول سرنجز کے دوبارہ استعمال اور اسکرین نہ کیے جانے والا خون ضلع لاڑکانہ کی عام آبادی میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی وجہ بنا۔ والد نے کہا کہ ‘گزشتہ برس، میری بیٹی بیمار تھی جب ایک مقامی ڈاکٹر نے مجھے اس کے ایچ آئی وی ٹیسٹ کا کہا تو میں برہم ہوا لیکن انہوں نے مجھے رضامند کرلیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب میں نے اپنی بیٹی کی رپورٹ دیکھی تو میرا سر گھوم رہا تھا۔تاہم اس سے بڑا دھچکا انہیں اس وقت لگا جب یہ احساس ہوا کہ دیگر سیکڑوں بچے بھی اس مرض کا شکار ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘ میرا خیال تھا کہ میری بیٹی مرجائے گی، وہ بہت کمزور تھی، میں نے کراچی کے سول ہسپتال میں 19 دن اور بعدازاں آغا خان ہسپتال میں 16 دن گزار، اس ایک ماہ میں میرے 7 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔رتوڈیرو میں اس مرض کے پھیلاؤ کا سامنا کرنے والے والدین میں سے اس بچی کے تعلیم یافتہ، متوسط طبقے کے والدین ایک غیرمعمولی فرد ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ایچ آئی وی/ایڈز اور اس کے تاحیات اثرات کیا ہیں۔

اس کے 8 سال بعد 2003 میں اس وقت توجہ حاصل کی جب انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والوں(آئی ڈی یوز) میں پہلی مرتبہ ایچ آئی وی کے کیسز سامنے آئے تھے۔ان 175 آئی ڈی یوز میں سے 17 میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد 2016 میں لاڑکانہ کے ایک سرکاری ہسپتال کے ہیموڈائیلائسز یونٹ میں اس مرض کے پھیلاؤ خبروں میں جگہ بنائی تھی اور ضلع میں ایچ آئی وی کا شکار افراد کی تعداد 1200 سے تجاوز کرچکی تھی۔ایچ آئی وی کا شکار ہونے والے ایک اور بچے کے والد ایس سی کہتے ہیں کہ بیٹے میں اس مرض کی تصدیق کے بعد وہ جدوجہد کررہے ہیں، ‘ میں یومیہ اجرت پر کام کرتا ہوں، میرے قبیلے کے لوگ مجھ سمیت اہلخانہ کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں، بزرگ کہتے ہیں کہ ہم گندے لوگ ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ وہ اے آر ویز (اینٹی ریٹرو وائرل) حاصل کرسکے تھ لیکن ان کے پاس خشک دودھ اور دیگر چیزیں خریدنے کی استطاعت نہیں جس سے ان کے بیٹے کو طاقت ملے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ایچ آئی وی نے میرے اور اہلخانہ کے لیے چیزوں کے لیے بدترین بنادیا ہے، میں مزدوری کے لیے لاڑکانہ جایا کرتا تھا لیکن کام نہیں مل رہا، لوگ کورونا وائرس سے زیادہ ایچ آئی وی سے خوفزدہ ہیں، کئی لوگ مجھے گھر کے دروازے کے قریب کھڑے ہونے کی اجازت نہیں دیں گے، گھر میں داخل نہیں ہونے دیں گے’۔اسی طرح ایک اور والدہ ایم جے نے بھی کچھ اسی قسم کے تاثرات بیان کیے۔

ایک اور بچے کی والدہ نے کہا کہ ‘ میرے ایک بیٹے کا ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آیا تھا اور یہ میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے’۔انہوں نے میرے اہلخانہ تو معاون ہیں دیگر نہیں ہیں، جب خواتین اپنے بچوں کو میرے بیٹے کے ساتھ کھیلنے سے روکتی ہیں تو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنا ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔والدہ کا کہنا تھا کہ ہم اس حوالے سے جدوجہد کررہے ہیں، ہم اس کے لیے اچھا دودھ اور خوراک لیتے ہیں لیکن وہ اب بھی کمزور ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ میرا بیٹا ہے اور میں اسے کھلانے کے لیے اپنے گردے بیچ دوں گی لیکن میرے دوسرے بچے متاثر ہورہے ہیں کیونکہ ہم مشکل حالات میں گزارا کررہے ہیں۔

والدین کو بیمار بچوں کو ایچ آئی وی ٹیسٹ کی تجویز دینے والے ڈاکٹر، عمران اکبر اربانی نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان خاندان کے لیے جاری رہنے والی جدوجہد ہے۔انہوں نے کہا کہ اکثر والدین بہت غریب ہیں اور وہ یہ سمجھنے کے قابل نہیں ہیں کہ ان کے بچے کو کیا مرض ہے۔ڈاکٹر عمران اکبر اربانی نے کہا کہ یہاں بحالی پروگرام کی اشد ضرورت ہے، ہم اپنے طور پر کچھ امدادی کام کرتے ہیں لیکن ان بچوں کو پائیدار چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انفیکشن کنٹرول کے ناقص طریقوں پر بھی غور کرنا چاہیے۔دوسری جانب سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن (ایس ایچ سی سی) ڈان کو دیے گئے جواب میں کہا کہ وہ محفوظ انجیکشن کے طریقوں پر کام کر رہیں جبکہ سندھ ڈیلیوری اسٹینڈرڈز کے تحت صوبے بھر میں ڈاکٹرز اور نرسز کی تربیت کے لیے میڈیکل مائیکروبائیولوجی اور متعدی امراض سوسائٹی آف پاکستان کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔

ایس ایچ سی سی کے ڈائریکٹر کلینیکل گورننس اینڈ ٹریننگ ڈاکٹر احمد رضا کاظمی نے بتایا کہ اس مرض کے پھیلاؤ کے بعد بعد سے ہسپتال کے فضلے کو محفوظ طریقے سے ضائع کرنے سے متعلق شعور اجاگر کرنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم کلینک اور ہسپتالوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ استعمال شدہ انجیکشنز نہ پھینکیں۔رتوڈیرو میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے بعد جب ایک ارب روپے کے انڈوومنٹ فنڈ کے حوالے سے پوچھا گیا تو ایس اے سی پی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سی ڈی سی ون فار ان ہینسڈ ایچ آئی وی / ایڈز کنٹرول پروگرام ڈاکٹر ثاقب علی شیخ نے کہا کہ ایچ آئی وی پازیٹو بچوں کی مائیں اس فنڈ سے مستفید ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم ماؤں کے ڈیٹا کو دستاویزی شکل دینے پر کام کررہے ہیں، جن میں سے اکثر کے پاس قومی شناختی کارڈز بھی نہیں ہیں۔ڈاکٹر ثاقب علی شیخ نے کہا کہ ابتدائی طور پر دسمبر میں 200 بینک اکاؤنٹس کھولے جائیں گے اور ماؤں کو رقم کی منتقلی اس فنڈ سے بچوں کو فائدہ پہنچانے کو یقینی بنایا جائے گا۔دریں اثنا ایس این ایچ اور دیگر والدین نے کہا کہ حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کے بچوں کو لازمی طور پر تعلیمی مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں جبکہ والدین کو ملازمتیں دی جائیں۔والدین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وزیر اعظم عمران خان یقینی بنائیں کہ ان کے بچے ‘ایچ آئی وی پازیٹو ہیلتھ کارڈز’ حاصل کریں اور انہیں احساس پروگرام میں شامل کیا جائے۔انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جو رتوڈیرو سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں، ان سے درخواست کی ہے کہ وہ ایک ارب روپے کے انڈوومنٹ فنڈ کے استعمال کو یقینی بنائیں۔