- الإعلانات -

سفارت کاری گیتوں اوربیانات سے نہیں بلکہ ملاقاتوں کے ذریعے ہوتی ہے: سابق وزیر دفاع

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما و سابق وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا ہے کہ ڈھائی سال کی سفارتی نالائقی کوتقریروں سے نہیں چھپایا جاسکتا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی میں یک طرفہ رعایتیں نہیں دی جاتیں، سفارت کاری گیتوں اوربیانات کے ذریعے نہیں ہوتی بلکہ ملاقاتوں کے ذریعے ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کیلئے خفیہ آرڈیننس کیوں جاری کیا گیا؟پہلی مرتبہ بھارت آزاد کشمیر اورگلگت پر حملے کی دھمکی دے رہا ہے، خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کوبہترکرنے کیلئے آنے والی حکومت کوبہت کام کرنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی حکومت نےخلیجی ممالک کے ساتھ سفارت کاری ٹی وی ٹاک شوزاوربیانات کے ذریعے کی، سقوط ڈھاکا کے بعد 2020 خارجہ پالیسی کا بد ترین سال تھا، عمران خان کی نالائقی نے دشمنوں کو تقویت اور دوستوں کو پریشان کیا، سی پیک سست روی کا شکار بنا دیا گیا۔ خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بزدلانہ مصلحت سے نقصان ہوا، 70 سال سے ساتھ کھڑا ملک بھی مدد واپس لینے پر مجبور ہوا ، سفارتکاری اورتعلقات قائم رکھنا عمران حکومت کے بس کی بات نہیں، بھارت کے حق میں ووٹ یو این سیکورٹی کونسل میں عمران خان نے دیا۔