- الإعلانات -

کسی نے قربانی قبول نہیں کی تو بکرا بھاگ گیا، رانا ثناء

رانا ثناء اللہ نے پنجاب اسمبلی کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ بکرا قربانی دینے کو تیار تھا، مگر کسی نے قربانی قبول نہیں کی، اسی لیے بکرا بھاگ گیا ۔

انہوں نے کہا کہ ایک جرم کے بدلے تین جگہ مواخذہ نہیں کیا جا سکتا، پنڈی کا شیطان اداروں کو لڑانے کی کوشش کر رہا ہے۔

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ نہال ہاشمی کا جرم صرف جوش خطابت تھا ، ان کے خلاف مسلم لیگ ن کی کارروائی کو تسلیم کیا جانا چاہیے تھا،اس کے عمل کو جمہوری عمل کا حصہ ماننا چاہیے تھا ،پہلے ان کے استعفے کو ڈرامہ کہا گیا، اب استعفیٰ واپس لینے کو ڈرامہ کہا جا رہا ہے ،نہال ہاشمی کا جوش خطابت غلط اور نامناسب تھا ، ملک میں اداروں کے درمیان کوئی تصادم نہیں ہو گا ۔

انہوں نے کہا کہ جمہوری عمل کا تسلسل چلتا رہے گا، مردان واقعے کی جے آئی ٹی رپورٹ کے منظر عام آنے پر عمران خان کو مستعفی ہو جانا چاہیے، جے آئی ٹی کی رپورٹ میں خیبر پختونخوا کی پولیس کی نااہلی کا ذکر ہے، عمران بتائیں خیبر پختونخواکی پولیس کی تعریفیں کہاں گئیں،خان صاحب بتائیں کہ کیا وہ ایسی ہی تبدیلی لانا چاہتے ہیں ۔

رانا ثناء اللہ نے نذر محمد گوندل کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے حوالے سے کہا کہ نذر گوندل اگر پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے تو پھر اس جماعت کا اللہ ہی حافظ ہے۔

انہوں نے چوہدری شجاعت کے حوالے سے کہا کہ چوہدری شجاعت کے بارے میں ہمارا خیال یہی ہے کہ وہ مناسب بات کرتے ہیں،تاہم چوہدری شجاعت کو اپنے کل کے بیان پر خود ہی شرم محسوس ہونی چاہیے،ان کی عمر اللہ اللہ کرنے کی ہے۔

وزیر قانون پنجاب نے مزید کہا کہ میری اطلاع کے مطابق ضرورت پڑی تو قطری شہزادہ عدالت میں پیش ہو گا، روزہ رکھ کر 9/9 گھنٹے انصاف لینے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں، اللہ حساب لینے والوں کو تعصب سے بالا ترکرے، انصاف کرنے کی توفیق دے ۔

رانا ثناء اللہ نے یہ بھی کہا کہ جے آئی ٹی کو چاہیے کہ احتساب کے عمل کو قانونی انداز میں آگے بڑھائیں، کسی قسم کی انتقام کی بو نہیں آنی چاہیے، تصویر سے متعلق بھی حقائق سامنے آنے چاہئیں،کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے شریف فیملی کی تضحیک نہیں کرنے دیں گے۔