- الإعلانات -

کرنل حبیب گمشدگی: حکومتی جواب پر چیئرمین سینیٹ کا عدم اطمینان

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کرنل حبیب کی گمشدگی سے متعلق حکومتی جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو معلومات ہمیں فراہم کی گئی ہیں اس سے زیادہ معلومات ارکان کو اخبارات کے ذریعے حاصل ہوئیں۔

سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کی صدارت میں ہوا جس میں کرنل حبیب کی گمشدگی کا معاملہ اٹھایا گیا اور اس حوالے سے بحث کے لیے سینیٹ میں تحریک سینیٹر میاں عتیق نے پیش کی۔

اس معاملے پر اپوزیشن نے حکومت پر کڑی تنقید کی۔

ریاستی و سرحدی امور (سیفران) کے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے سینیٹ اجلاس کے دوران بتایا کہ کرنل حبیب کے اغوا میں بھارت یا اسکی ایجنسی کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے تاہم 99 فیصد یقین ہے کہ کرنل حبیب کی گمشدگی میں انڈین حکومت کا ہاتھ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شک کی بنیاد پر یہ معاملہ عالمی عدالت یا اقوام متحدہ نہیں لے جا سکتے۔

عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ کرنل حبیب نے یو کے میں اسکائپ پر بات کی، بات فون پر نہیں ہوئی، نیپال میں کرنل حبیب کو رسیو کرنے والے شخص کا تعلق ایک فرم سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کا کلبھوش سے خاص تعلق ہے اور حکومت کرنل حبیب کی رہائی اور معلومات حاصل کرنے کے لیے کوشش کر رہی ہے۔

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کرنل حبیب کی گمشدگی سے متعلق حکومتی جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عبدالقادر بلوچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپکا قصور نہیں آپکو جتنا بتایا گیا آپ نے اتنی ہی معلومات فراہم کیں لیکن اس سے زیادہ معلومات ارکان کو اخبارات کے ذریعے حاصل ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ پارلیمنٹ سے معلومات نہیں چھپائی جا سکتی، تاہم قومی سلامتی کا کوئی معاملہ ہے تو ان کیمرا اجلاس بلایا جا سکتا ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ضروری ہے کہ اس ایوان کو قطر تنازع، افغانستان اور کرنل حبیب سے متعلق معلومات دی جائیں۔

جس کے بعد انھوں نے ان معاملات پر بریفنگ کے لیے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کو سینیٹ میں طلب کرلیا۔

اس سے قبل نیپال میں پاکستان کے سابق افسر کرنل حبیب کی کمشدگی کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ کرنل حبیب کے معاملے پر حکومت خاموش ہے۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا  عظمٰی

کے پیچھے کھڑا تھا، بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج مسلسل عظمیٰ سے رابطے میں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ عظمٰی نے بھارت جا کر بیان دیا کہ پاکستان موت کا کنوا ہے، عظمیٰ کو بھارت بھیجنے کا فیصلہ پاکستان کی عدالت نے کیا، عظمیٰ نے عدالت اور مجسٹریٹ کا ذکر تک نہیں کیا۔

ادھر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ حکومت کا واحد مقصد جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کو متنازعہ بنانا ہے۔ خیال رہے کہ نیپال میں رواں سال 6 اپریل کو لاپتہ ہونے والے ریٹائرڈ آرمی افسر لیفٹیننٹ کرنل حبیب کے بیٹے نے اپنے والد کے اغوا کے پیچھے ‘ملک دشمن عناصر’ کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا۔