- الإعلانات -

قطر-خلیجی ممالک تنازع: قومی اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور

قطر اور خلیجی ممالک کے مابین تنازع اور ایران میں گذشتہ روز ہونے والے دہشت گرد حملوں کی گونج قومی اسمبلی میں بھی سنائی دی جس کے بعد ایوان نے ایران حملوں اور قطر تنازع  پر متفقہ قراردادیں منظور کرلیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے ایرانی پارلیمنٹ پر حملے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایرانی پارلیمنٹ اور آیت اللہ خمینی کے مزار پر حملوں

کے خلاف مذمتی قرارداد وزیر قانون زاہد حامد نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان ایران کے عوام اور پارلیمنٹ سے اظہار یکجہتی کرتا ہے۔

قطر اور خلیجی ممالک کی صورتحال پر منظور ہونے والی قرارداد میں کہا گیا کہ تمام برادر اسلامی ممالک مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کریں کیونکہ مسلم امہ کو اتحاد کی ضرورت ہے۔

مذکورہ قرارداد سابق وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے پیش کی تھی۔

پی ٹی آئی کا اسلامی فوجی اتحاد سے نکلنے کا مطالبہ

دوسری جانب اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری نے اسلامی فوجی اتحاد سے نکلنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل مسلم امہ کے اتحاد کے خلاف ہیں اور قطر پر ڈرامہ کھیلا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘سعودی عرب اور قطر کے تناؤ پر امریکا اور اسرائیل کا ایجنڈا نظر آرہا ہے، پاکستان کو اس صورتحال پر غیر جانبدارانہ مثبت کردار ادا کرنا چاہیے’۔

ڈونلڈ ٹرمپ کیا چاہتےہیں؟ آفتاب شیرپاؤ

سابق وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ہمیں کچھ کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘تاریخ میں پہلی مرتبہ خلیجی ممالک آپس میں لڑ پڑے ہیں اور قطر پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو فروغ دے رہا ہے جبکہ قطر نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے’۔

امریکی صدر کے ارادوں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ ‘ابھی تک سمجھ نہیں آیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟

انہوں نے شکوہ کیا کہ ‘ریاض کانفرنس پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا اور اس کانفرنس کے بعد ہی مسلم ممالک میں حالات خراب ہونے کا سلسلہ شروع ہوا ہے’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘مسلم ممالک کے درمیان حالات خراب ہونے سے اسرائیل کو فائدہ پہنچ رہا ہے، خلیجی ممالک کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے پاکستان کو مصالحتی کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ آج قطر پر ریاستی دہشت گردی کا الزام لگا ہے کل پاکستان پر بھی لگ سکتا ہے’۔

آفتاب شیرپاؤ نے اس معاملے پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا۔

قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب

اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ‘خلیجی ممالک سے ہمارے تعلقات مثالی ہیں، پاکستان کی طرف سے پیغام جانا چاہیے کہ ہم خلیجی ممالک کے تنازع کا پر امن حل چاہتے ہیں’۔

جس کے بعد ایاز صادق نے 15 جون کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا۔

پاکستان خود کو محفوظ نہ سمجھے، نوید قمر

اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی نوید قمر نے ایرانی پارلیمنٹ پر گذشتہ روز ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ‘کسی بھی ملک کی پارلیمنٹ پر حملے کو پاکستانی پارلیمنٹ پر حملہ تصور کیا جائے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک کی صورتحال پر دفتر خارجہ کی دانش مشکوک ہے اور پاکستان کو قطر عرب تنازع پر واضح مؤقف اپنانا ہوگا۔

نوید قمر نے کہا کہ اگر داعش ایران میں پہنچ گئی ہے تو پاکستان خود کو محفوظ نہ سمجھے۔

سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید نے کہا کہ بدقسمتی سے دنیا میں جہاں بھی دہشت گردی کا واقعہ ہوا اس میں پاکستان ملوث نظر آیا۔

انہوں نے پارلیمنٹ کی سیکیورٹی رینجرز کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘دہشت گرد لندن، ایرانی پارلیمنٹ اور جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) پہنچ گئے تو یہاں بھی آسکتے ہیں، یہ لڑائی تھمنے والی نہیں’۔