- الإعلانات -

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امریکی طالبعلم رہا کردیا: شمالی کوریا

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ 17 ماہ سے قید امریکی شہری کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کردیا گیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف ورجینیا کے طالب علم 22 سالہ اتو ورمبر کو بدھ کے روز شمالی کوریا سے امریکا بھیجا گیا،اہل خانہ کے مطابق جب وہ امریکا پہنچا تو کومے میں تھا۔

شمالی کوریا کی ’کے سی این اے‘ نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ اتو ورمبر کی رہائی عدالتی حکم پر عمل میں آئی، انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

نیوز ایجنسی کا مزید کہنا تھا کہ ’ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا (ڈی پی آر کے) کی وسطی عدالت کے 13 جون کے فیصلے کے تحت امریکی شہری اتو ورمبر کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کردیا گیا، انہیں 15 سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی تھی‘۔

امریکی حکام کے مطابق امریکی شہری کی رہائی شمالی کوریا کے لیے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے خصوصی نمائندے جوزیف یون کے پیانگ یانگ کے دورے اور اتو رومبر کے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی کے مطالبے کے بعد عمل میں آئی، جو خفیہ سفارتی رابطے کا حصہ تھی۔

اتو ورمبر کے والدین نے اپنے بیٹے کی رہائی کی تصدیق کی۔

خیال رہے کہ اتو ورمبر کو جنوری 2016 میں گرفتار کیا گیا تھا اور شمالی کوریا کے میڈیا کے مطابق انہیں اسی سال مارچ میں پروپیگینڈا مہم کے الزام میں 15 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔

اتو ورمبر کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ انہیں شمالی کوریا کے حکام نے بتایا کہ گذشتہ سال مارچ میں ٹرائل کے بعد ان کا بیٹا بیمار ہوگیا تھا اور نشہ آور ادویات کے استعمال کے باعث کومہ میں چلا گیا تھا۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا کہ واشنگٹن کو حال ہی میں خفیہ معلومات ملی ہیں جن میں بتایا گیا کہ اتو ورمبر کو حراست کے دوران مستقل تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔

ادھر غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اپنی رپورٹ میں اتو ورمبر کے والد کے حوالے سے بتایا کہ ان کے بیٹے کو ’وحشیانہ تشدد‘ کا نشانہ بنایا گیا جس کے باعث وہ ایک سال سے زائد عرصے سے کومہ میں ہے۔