- الإعلانات -

روس کی پاکستان کو آزادانہ تجارتی معاہدے کی پیشکش

ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان نے روس کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر آمادگی کا اظہار کر دیا، آزادانہ تجارتی معاہدے سے دو طرفہ تجارتی حجم بڑھے گا۔

روس نے ایرویشین اکنامک یونین کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدے میں پاکستان کی شمولیت کی بھی حمایت کردی ہے، آزادانہ تجارتی معاہدوں سے تجارتی حجم، پاکستان کی ایکسپورٹس اورزرمبادلہ میں بھی اضافہ ہوگا۔

اعلیٰ سطح ذرائع نے ’جیونیوز‘ کو بتایاہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نےپیش کش وزیراعظم نوازشریف سےحالیہ دورہ آستانہ میں سائیڈ لائین ملاقات کے موقع پرکی۔

جس پروزیراعظم نےآمادگی ظاہر کردی جبکہ روس نے ایروایشین اکنامک یونین کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدے میں پاکستان کی شمولیت کی بھی غیرمشروط حمایت کردی ہے۔

آزادانہ تجارتی معاہدے کےحوالے سے پاکستان اور روس کے حکام پر مشتمل اعلیٰ سطح کمیٹیز بنانے کا بھی فیصلہ کرلیاگیا۔

روس کے کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدےکےحوالے سے وزارت تجارت اوردیگرمتعلقہ وزارتیں اور ادارے ضرورت اقدامات کریں گے اور اپنی تجاویز و سفارشات وزیراعظم کو پیش کریں گے۔

ذرائع کا کہناہے کہ آزادانہ تجارتی معاہدے سے روس سمیت سینٹرل ایشین یونین کے درمیان نہ صرف تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کی ایکسپورٹس میں اضافے سمیت زرمبادلہ بھی بڑھےگا،اس کے ساتھ ساتھ سی پیک کےپیداواری منصوبوں کی روس کی منڈیوں تک رسائی ممکن ہوسکےگی۔

پاکستان اور روس کے درمیان دو طرفہ تجارت 40کروڑ ڈالر کے لگ بھگ ہےجس میں روس کو برآمدات کا حجم 30کروڑ ڈالر ہے جبکہ روس سے درآمدات کا حجم صرف 9کروڑ 60لاکھ ڈالر ہے۔

ذرائع کا کہناہےکہ دونوں ملکوں کے حکام سربراہان مملکت کی منظوری کےبعد جلد باضابطہ ملیں گے اورتجارتی معاہدے کے حوالے سے ضروری دستاویزات کا تبادلہ کریں گے۔

ذرائع کایہ بھی کہنا ہے کہ اس سے قبل پاکستان کا چین، سری لنکا اور ملائیشیاء کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدہ ہے۔