- الإعلانات -

پانامہ کا ہنگامہ

جب سے پانامہ کیس کی سماعت تکمیل کے قریب ہوتی جارہی ہے فریقین خاص طور پر حکومتی پارٹی کی پریشانیاں دیکھنے لائق ہیں محترم نہال ہاشمی اداروں کو سخت ترین دھمکیاں دے کر نہال ہو چکے ہین محترم سعد رفیق صاحب جے آئی ٹی کے لتے لینے پر تلے ہوئے ہیں اور بالواسطہ طور پر موصوف کی عدلیہ کو رگیدنے کی سعی جمیلہ بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ان کے ارشادات عالیہ کو لوگ نہیں بھولے جب متعلقہ لوگوں کو نواز شریف نامی کتاب پڑھنے کی دھمکی نما مشورے دے رہے تھے اور مصر تھے کہ نواز شریف نامی کتاب کے تمام صفحے پورے ہیں لوگوں کو پڑھنا نہیں آتا تو ہمارا قصور نہیں، پتہ نہیں وہ کیا پرھانا چاہتے تھے اور کن صفحات کی بات کر رہے تھے ہم کل پاکستان کے ایک نجی چینل پر ایک مزاحیہ ڈرامہ دیکھ رہے تھے جس میں پولیس ایک ویگن اور ایک موٹرسائیکل روک لی تھی اور دونوں مالکان کو 14 اگست کے بعد آنے کو کہاگیا جب مالکان اپنی گاڑیاں لینے آئے تو ان سے کاغذات دکھانے کا کہاگیا موٹر سائیکل والے نے کاغذ بڑھا دئے تو اسے کہاگیا کہ اس کے کاغذات پورے نہیں جب ویگن والے نے دیکھا تو اس نے کچھ کاغذوں کا اضافہ کردیا اور مطلوبہ صفحے فراہم کردئے یوں اس کے کاغذات مکمل قرار دے کر ویگن مالک کے حوالے کردی گئی یہ تو محض ایک ڈرامے کا سین تھا ہمارے جج صاحبان انتہائی شاندار اور نہایت دیانت دار کیریئر کے مالک ہیں جن کے تمام فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ کبھی ان کے خلاف کہیں کسی بھی جانب سے انگشت نمائی نہیں کی گئی اور سچی بات یہ ہے کہ پانامہ کا معاملہ پاکستان میں کسی نے نہیں اٹھایا بلکہ صحافیوں کی ایک بین الاقوامی تنظیم نیان معاملات کو منطرعام پرلانے سے پہلے تمام متعلقہ فریقوں کو فون کر کے ان سے ان کا موقف لیا اور مطمئن ہونے پر ان کی وضاحت بھی شائع کی گئی لیکن جو فریق مطمئن نہیں کر سکے یا جو درست جواب دینے میں ناکام رہے تو ان کی تفصیلات افشا کردی گئیں اسی معاملے کو پاکستان میں موجود سیاسی قوتوں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے سپریم کورٹ میں اٹھایا جو ان کا قانونی اور سیاسی حق تھا اس پر کئی ہفتوں تک عدالت عظمی کے معزز پانچ رکنی ججوں پر مشتمل بنچ سماعت کرتا رہا وزیراعظم کی بیٹی نے پہلے پہل انکار کیا کہ ان کی ملک سے باہر کیا ملک کے اندر بھی کوئی پراپرٹی نہیں بھائیوں نے تسلیم کیا کہ مذکورہ پراپرٹیز الحمد للہ نہ صرف ہماری ہیں بلکہ اصل مالکہ بھی ہماری ہمشیرہ مریم نواز ہی ہیں وزیراعظم نے قومی اسمبلی کے فلور پر تسلیم کر لیا کہ اس کیس میں مذکورہ پراپرٹی ان کی ملکیت ہیں بلکہ وزیراعظم نے قومی اسمبلی کے فلور پر ہی کاغذوں کا پلندہ لہراتے ہوئے کہا کہ حضور یہ ہیں وہ تمام ثبوت جو ہر فورم پر پیش کئے جاسکتے ہیں جب معاملہ عدالت میں گیا تو کوئی کاغذ پیش ہی نہیں کیا گیا اور اسمبلی میں دئے گئے بیان کو عدالت میں محض سیاسی بیان کہ دیا گیا عدالت نے وزیراعظم اور ان کے خاندان کو پورا موقع دیا کہ وہ ثابت کریں کہ یہ فلیٹ ان کی جائز کمائی سے خریدے گئے ہیں منی لانڈرنگ سے نہیں اور اس سلسلے میں منی ٹریل عدالت میں پیش کردیں کہ پیسہ کیسے اور کس چینل سے لندن پہنچا،کہا گیا 70 میں ہمارے والد صاحب نے دبی میں اسٹیل مل قائم کی پوچھا گیا وہ پیسہ پاکستان سے کیسے گیا جبکہ اس وقت کے وزیر خزانہ مبشر حسن کے بقول زرمبادلہ پر سخت ترین پابندیوں کے ہوتے ہوئے پیسہ کیسے دبئی گیا کہا گیا کہ یہ مل ہم نے ستر کی دہائی کے وسط میں 17 ملین ڈالر میں بیچی اور سن دو ہزار کے ابتدائی سالوں میں اسی سرمائے سے سعودیہ میں مل قائم کی پوچھا گیا کہ دبئی کی مل خسارے کا شکار ہوکر بینک کی تحویل میں چلی گئی تھی تو آپ نے بیچی کیسے کوئی جواب نہیں ملا پھر نئی کہانی شروع ہوئی کہ میاں محمد شریف نے 13 ملین درہم سے قطر کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی جو بعد میں اربوں ڈالر میں تبدیل ہو گئی اور یہ پیسہ لندن گیا اور اسی سے ہم نے یہ فلیٹ خریدے تو پوچھا گیا کہ چلیں اسی پیسے کا ہی ٹریک بتا دیں جواب میں قطر کے ایک شہزادے کا خط لے آئے جو کہے سنے پر مشتمل تھا قطری کہتے ہیں جب میں دوسال کا تھا میں نے اپنے والد سے سنا کہ میاں شریف نے قطر میں سرمایہ کاری کی تھی مزے کی بات یہ ہے کہ میاں محمد شریف مرحوم کبھی بھی قطر نہیں گئے جو ان کے پاسپورٹ سے ثابت ہے اب عدالت نے کہا کہ عدالت نے پھر کہا کہ چلیں اسی پیسے کا منی ٹریل دے دیں تو یہ مقدمہ ختم ہو جائے گا ملزمان عدالت کو مطمئن نہیں کر سکے اور عدالت کے دو معزز ججوں نے قرار دیا کہ وزیراعظم نے غلط بیانی کی لہذا وہ صادق اور امین نہیں رہے اس لئے انہیں عوامی عہدے کے لئے نا اہل قرار دے دیا لیکن دیگر 3 معزز ججوں نے مزید تفصیلی تحقیق کا فیصلہ کیا یوں وزیراعظم اور ان کے خاندان کو ایک اور موقع دینے کے لئے سپریم کورٹ نے اپنی نگرانی ایک جے آئی ٹی تشکیل دی جس کے ذمے تحقیق و تفتیش کا کام لگایا گیا جو 60 دن کے اندر سپریم کورٹ میں تفصیلی رپورٹ پیش کریگی جے آئی ٹی نے 13 سوالات مرتب کئے اور ان کی روشنی میں تحقیقات شروع ہوئیں جے آئی ٹی نے وزیراعظم ان کے صاحبزادگان اور خاندان کے دیگر افراد کو طلب کیا اور ان سے مختلف سوالات کئے گئے اب تک کی کارروائی صیغہ راز میں رکھی جارہی ہے اس پر لب کشائی کی جے آئی ٹی کو اجازت نہیں دی گئی البتہ جے آئی ٹی نے مختلف حوالوں سوال کئے اور ان کے جوابات پر 15 دن بعد ایک رپورٹ کی صورت میں عدالت عظمیٰ میں جمع کروا دی گئی تمام ملزمان جے آئی ٹی آئے لیکن باہر نکلتے ہی بیک زبان سبھی نے کہا کہ ہمارے خلاف کوئی بہت بڑی سازش ہو رہی ہے کس نے سازش کی نہیں بتا پائے محترمہ مریم نواز شریف پورے پروٹوکول میں جے آئی ٹی تشریف لائیں تو حاضر سروس ایس ایس پی نے مریم صاحبہ کے حضور سلوٹ پیش کیا جس کی ان سے جواب طلبی ہو چکی ہے جے آئی ٹی سے باہر آتے ہی مریم صاحبہ نے خطاب فرمایا اور بھائیوں کی منطق کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ میں نے جے آئی ٹی سے پوچھا کہ ہمارے خلاف مقدمہ کیا ہے میرا تو کہیں نام تک نہیں تو جے آئی ٹی میرے سوال کا جواب نہیں دے سکی اب جے آئی ٹی نے کیا جواب دیا ہمیں معلوم نہیں لیکن آپ فرماتی ہیں کہ میرا کہیں نام نہیں تو بطور پاکستانی شہری ہم بتا دیتے کہ آپ اس مقدمے میں ملزمہ نمبر 6 ہیں تجاہل عارفانہ فرماتے ہوئے اپنا خطاب اخبار نویسوں کو سنایا اور کسی سوال کا جواب دئے بغیر چلی گئی اخبار نویسوں کے ہر سوال کا جواب یہ دیتی رہیں کہ ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی تمام ملزمان کی ایک بات سب کی مشترک تھی کہ جو جو بھی جے آئی ٹی سے نکلا ،نکلتے ہی عمران خان کو بے نطق سنا ڈالیں بلکہ اسحاق ڈار سی سی باتیں بھی کر گئے جو کوئی شریف آدمی کہنا تو درکنار سن بھی نہیں سکتا ایسا لگتا تھا کہ جے آئی ٹی میں عمران خان ہی بیٹھے ہیں لگتا ہے کہ جس طرح 5 ججوں کے سامنے شریف خاندان کوئی واضح جواب /ثبوت نہیں دے سکے ان کے مزاج کی تلخی بتا رہی ہے اور سمجھ رہے ہیں کہ فیصلہ شاید ان کی مرضی کا نہ ہو بہرحال علم عند اللہ کے مصداق کیا فیصلہ آتا ہے یہ تو فیصلہ آنے پر پتا چلے گا اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ جو بھی فیصلہ آئے ملک و ملت کے لئے خیرو نفع کا باعث ہو اللہ وطن اور اہل وطن کی حفاظت فرمائے۔
***