- الإعلانات -

نواز شریف رشوت کے ذریعے احتساب سے بچتے رہے، عمران خان

ٹوئٹر میں اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ اب نواز شریف کا راستہ بند کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں وزیراعظم کے استعفے پر اتفاق نہ ہوسکا۔

خورشید شاہ کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی، شیری مزاری، پیپلزپارٹی کی شیری رحمان، ایم کیو ایم پاکستان کے فاروق ستار، جماعت اسلامی کے سراج الحق، قومی وطن پارٹی کے آفتاب خان شیرپاؤ اور مسلم لیگ (ق) کے چوہدری پرویز الہیٰ سمیت فاٹا کے قانون ساز اراکین نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد 2 اہم نکات، وزیراعظم کے استعفے اور پی ٹی آئی کے ملک میں قبل از وقت انتخابات پر مشاورت کی گئی۔

اس دوران وزیراعظم نواز شریف کے استعفے کے مطالبے پر بعض اپوزیشن رہنما تقسیم نظر آئے اور آفتاب شیر پاؤ سمیت اے این پی نے فوری استعفے کی مخالفت کردی۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پوری اپوزیشن متفق ہے کہ ہم آئین اور جمہوریت کے ساتھ ہیں، تحریک انصاف کا واضح مؤقف ہے کہ نوازشریف فی الفورمستعفی ہوجائیں اور جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد ان حالات میں نواز شریف کو فی الفور مستعفی ہوجانا چاہیے۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف نے وزیراعظم کے استعفے کے ساتھ ملک میں قبل از وقت انتخابات کی تجویز دی ہے۔

جب کہ وزیراعظم نے مستعفی ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہےکہ سازشی ٹولے کے کہنے پر استعفا نہیں دوں گا اور عوام کے لیے آخری حد تک لڑوں گا۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے رپورٹ جمع کرائے جانے کے بعد سپریم کورٹ نے پاناما کیس کی مزید سماعت کے لیے 17 جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔