- الإعلانات -

روس کے خلاف پابندیوں کے نئے بل کا معاہدہ، صدر کے اختیارات میں کمی

نئے قانون کے تحت روس پر سے پابندیاں اٹھانے کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات بہت محدود ہو جائیں گے۔

 

صدر ٹرمپ کی صدارت میں روس کی جانب سے امریکی انتخاب میں مبینہ مداخلت کا بہت شور برپا ہے۔

تاہم ماسکو کی جانب سے مداخلت کے الزام کو رد کیا جا رہا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کا مطلب یہ ہے کہ کانگریس روس کے خلاف سخت گیر موقف اپنائے گی چاہے صدر ٹرمپ کا جو بھی موقف ہو۔

اگرچہ اس بل کو صدر ٹرمپ ویٹو کر سکتے ہیں لیکن ایسا کرنے کا مطلب یہ اشارے دینا ہے کہ وہ روس کے بہت زیادہ حامی ہیں۔

لیکن اگر وہ اس بل کو ویٹو نہیں کرتے تو وہ اس بل کی منظوری دیں گے جس کے خلاف ان کی انتظامیہ ہے۔

سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی میں ڈیموکریٹ جماعت کے سینیئر ترین رہنما سینیٹر بین کارڈن کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتیں شدید بحث کے بعد اس بل پر متفق ہوئیں۔

‘متفق کانگریس امریکی صدر کو عوام اور اتحادیوں کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا چاہتی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ یہ پیغام آگے پہنچائیں۔’

سینیٹ میں ڈیموکریٹ جماعت کے رہنما چک شومر نے کہا کہ ایوان نمائندگان اور سینیٹ اس بل پر جلد از جلد عمل کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پابندیوں کے حوالے سے ایک مضبوط بل کی ضرورت تھی۔

اس بل میں شمالی کوریا اور ایران پر بھی مزید پابندیاں عائد کرنے کا امکان ہے۔