- الإعلانات -

نیب کرپشن کی ریکور رقم کا 20 فیصد رکھتا ہے: پبلک اکائونٹس کمیٹی میں انکشاف

پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی میں انکشاف کیا گیا کہ کرپشن کیسز سے ریکور ہونے والی رقم عدالت سے فیصلے کے بعد چیئرمین نیب کے اکائونٹ میں جمع ہوتی ہے اور 20 فیصد سروس چارجز کی کٹوتی کے بعد قومی خزانے میں بھجوائی جاتی ہے، کمیٹی نے پلاننگ حکام سے نامکمل منصوبوں کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب کرلی۔

اجلاس چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا ،اجلاس میں وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس کے مالی سال 2013-14کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا، کمیٹی میں 21 ارب 75 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا، رکن کمیٹی شیخ رشید نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ میں نے راولپنڈی میں ہسپتال شروع کیا اس کا 90 فیصد کام مکمل ہوچکا جس پر اب کام رکا ہوا ہے، خورشید شاہ نے کہا کہ شیخ رشید آٹھ بار یہ معاملہ اٹھا چکے ہیں منصوبہ مکمل کیا جائے نہیں تو خرچہ وزارت پلاننگ کے گلے میں ڈال دیا جائے۔

جاوید اخلاص نے کہاکہ این اے 51 کی 1650 ملین کی سکیمیں تھیں جن میں سے 244 ملین (لیپس) ہوگئے ،چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ وزارت پلاننگ میں سائٹ پلاننگ کے بجائے ٹیبل پلاننگ کی جاتی ہے جو ایک بدقسمتی ہے ،آڈٹ حکام نے کہا کہ پی ڈبلیو ڈی کے 8 ایگزیکٹو ا نجینئرز نے پیمائش کے بغیر سڑکوں کی تعمیر کیلئے کنٹریکٹرز کو ادائیگیاں کیں ، ادائیگیوں سے 32 کروڑ 23 لاکھ روپے کا نقصان ہوا ، سیکرٹری ہائوسنگ نے کہا کہ یہ کیس ایف آئی اے کے پاس ہے ،کمیٹی نے منصوبہ بندی کمیشن اور وزارت خزانہ کو آئندہ اجلاس میں تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ پی ڈبلیو ڈی کے 60 کروڑ روپے کے دو کیسز نیب جبکہ 39 کروڑ 65 لاکھ روپے کے تین کیسز ایف آئی اے کے پاس ہیں، پی ڈبلیو ڈی اسلام آباد کی جانب سے چکوال میں سڑک کی تعمیر کے منصوبے میں ٹینڈر دستاویزات میں ٹمپرنگ کی گئی ہے ، ٹینڈر دستاویزات میں ٹمپرنگ سے 5 کروڑ 95 لاکھ روپے کا نقصان ہوا، کمیٹی کو سیکرٹری ہائوسنگ نے بتایا کہ اس میں ملوث ایگز یکٹو انجینئر ریٹائر ہو چکا ہے ، معاملہ کی انکوائری ایف آئی اے کے پاس ہے۔

رکن کمیٹی اعظم سواتی نے کہا کہ ایف آئی اے نے آج تک اس افسر کو گرفتار کیوں نہیں کیا، قومی احتساب بیورو کی طرف سے ملزمان اور اداروں سے ریکور رقم رکھنے کے معاملے پر رکن کمیٹی سردار عاشق گوپانگ نے کہا کہ ملزمان اور اداروں سے ر یکور رقم کہاں رکھی جاتی ہے ،اس رقم کا انٹرسٹ کہاں جاتاہے ،کمیٹی کو نیب حکام نے بتایا کہ مقدمے کے فیصلے تک رقم احتساب عدالت کے پاس ہوتی ہے اس کے بعدچیئر مین نیب کے اکائونٹس میں جاتی ہے ،نیب حکام نے بتایا کہ قومی احتساب بیورو اس رقم کا صرف20فیصد رکھتاہے ، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ 20 فیصد رقم کہاں خرچ ہوتی ہے کیا کسی افسر کو حصہ جاتا ہے ،نیب کے حکام نے بتایا کہ 20 فیصد رقم نیب کے ویلفیئر میں جاتی ہے لیکن اب وہ بھی نہیں ملتی