- الإعلانات -

پانامہ کیس میں وزیراعظم قطعی طورپر شامل نہیں: مریم اورنگزیب

اسلام آباد(عزیراحمد خان )پانامہ کیس میں وزیراعظم قطعی طورپر شامل نہیں نہ ہی ان پر کوئی الزام ثابت ہوسکا ہے ۔جے آئی ٹی کی رپورٹ بھی اس بات کاثبوت ہے کہ وہ وزیراعظم پر کرپشن کا الزام ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔وزیراعظم اپنی تین نسلوں کا حساب دے رہے ہیں ۔حالانکہ ان کے بچے بیرون ملک قوانین کے تحت وہاں کاروبار کررہے ہیں اورانہیں آئین وقانون کے تحت بلایا نہیں جاسکتا تھا لیکن وزیراعظم نے اپنی فیملی کے ایک ایک فرد کو احتساب کیلئے پیش کیا ۔جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے بجائے وزیراعظم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو پی ایم ہاؤس بھی بلا سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔جے آئی ٹی نے جو رپورٹ لکھی ہے اس میں واضح طور پر ProbablyاورIt Seemsکے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جو واضح کرتے ہیں کہ کوئی بھی کرپشن ثابت نہیں ہوسکی اورشریف فیملی کیلئے یہ بہت بڑے اعزاز کی بات ہے ۔ان خیالات کا اظہار وزیرمملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے روزنیوز کے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں ایس کے نیازی کے ساتھ خصوصی انٹرویو کے دوران کیا ۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے جو تحقیقات کیں اس کے دس والیم بن گئے ۔مختلف ممالک سے بھی چیزیں طلب کی گئیں ۔کس کس طرح تحقیقات کی گئیں مگر پھر بھی کرپشن ثابت نہ ہوسکی ۔وزیراعظم نے اتنے بڑے بڑے پراجیکٹ شروع کیے لیکن کہیں بھی کوئی گڑ بڑ نہبں پائی گئی ۔مخالفین نے دو سال تک ملکی ترقی میں فل سٹاپ حائل کیے رکھا اسکے بعد انہیں پانامہ مل گیا مگر وہ کچھ بھی حاصل نہیں کرسکے ۔وزیراعظم نے جے آئی ٹی کے سامنے تمام چیزیں واضح کردی ہیں ۔لندن فلیٹس کی خریداری کے بارے میں بھی بتا دیا ہے جبکہ مخالفین کی جب باری آتی ہے تو ان کے پاس کوئی دستاویزات تک موجود نہیں ہیں ۔وزیراعظم نے واضح طورپر کہا ہے کہ میرے خلاف اگر کوئی بھی ثبوت سامنے آجائے تو میں ہر طرح کافیصلہ قبول کروں گا۔ن لیگ نے احتساب کی روایت ڈالی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ احتساب ہونا چاہیے ۔اب تو کرپشن بعد کی بات ہے کیونکہ جے آئی ٹی اس سلسلے میں ناکام ہوچکی ہے وہ کرپشن تلاش نہیں کرسکی ۔فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے ۔ہمارے جے آئی ٹی پر تحفظات ہیں اوررہیں گے ۔یہ متنازعہ ہے اس کے بارے میں آگاہ کردیا تھا ۔لیکن پھر بھی وزیراعظم نے احتساب کو ترجیح دی وزیراعظم نوازشریف نے خود کمیشن بنانے کا کہا پھر اس کیلئے خط لکھا وہ جے آئی ٹی کوچیلنج کرسکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔عمران خان کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان عدالت، الیکشن کمیشن ،دہشتگردی کی عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج کررہے ہیں ان کے پاس کوئی منی ٹریل نہیں ۔ان کے وکیل نے تو فارن فنڈنگ کے بارے میں بھی تسلیم کیا کہ چھ سے سات ہزار ڈالر لیے تھے ۔یہ ایک کرائم ہے ۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ احتساب شروع کرنے کا کریڈٹ وزیراعظم کو جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جو بھی فیصلہ آئے گا وہ قانون کے مطابق ہوگا ۔یہ بھی کہیں ثابت نہیں ہوا کہ وزیراعظم نے کوئی جھوٹ بولا ہے ۔وزیراعظم نہیں جائیں گے اگر مگر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ججزکرام محترم ہیں اورجو بھی وہ فیصلہ دیں گے ۔آئین وقانون کے مطابق ہوگا ۔وزیراعظم کیخلاف کیس ہی نہیں یہ کہانی پرانی ہوچکی ہے ۔بنی گالہ میں جو روز شام کو ڈرامہ چلتا ہے اب وہ بھی ختم ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن باالخصوص عمران خان نے کیا کیا ۔پہلے وہ پارلیمنٹ سے باہر سڑکوں پر رہے اور پھر آخرکار اسی پارلیمنٹ میں واپس آئے ۔انہوں نے کہا کہ یہ روایت بھی ختم ہونا چاہیے کہ کسی بھی سیاستدان کا نام لے کراس کے حوالے سے کوئی بات کی جائے کیونکہ جو بھی اثاثے ہیں وہ تمام متعلقہ ویب سائٹس پر موجود ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاست عمران خان کے بس کی بات نہیں ،ان میں تحمل نام کی کوئی چیز نہیں انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ جب وہ انگلی اٹھا کر کسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو تین انگلیاں ان کی اپنی طرف ہوتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو عوام نے مینڈیٹ دیا ہے اور وزیراعظم آخری وقت تک ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ میرا الیکشن لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ۔میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ انتخابات پر خرچ کرسکوں ۔ترجمان کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر ووٹر ہمارا نمائندہ ہے اورپھر آگے حکومت کے ترجمان ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اس وجہ سے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے کہ احتساب کاعمل نہیں رکنا چاہیے ۔کیونکہ وہ اپوزیشن کو ایک اور بیساکھی فراہم نہیں کرنا چاہتے تھے ۔چوہدری نثار کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار ن لیگ کے اہم ترین رکن اوروزیراعظم کے قریبی ساتھی ہیں ۔ن لیگ کے اجلاس میں ان کی ہونے والی گفتگو کے بارے میں جو بتائیں سامنے آئیں اس میں کوئی سچائی نہیں ہر ایک آدمی کا اپنا اپنا موقف ہوتا ہے ۔چوہدری نثار انتہائی محنتی آدمی ہیں انہوں نے جس انداز سے وزارت داخلہ چلائی وہ اپنی ایک مثال ہے ۔کرپشن کی فائلیں پڑی ہوئی تھیں ان پر انہوں نے کام کیا ۔پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور روزنیوز کے ضابطہ اخلاق کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نیازی صاحب میں آپ کو ذاتی طور پر اور آفیشلی طور پر بھی مبارکباد دیتی ہوں کہ آپ نے ایک ضابطہ اخلاق بنایا ۔بہت کم ٹی وی چینل ہیں جنہوں نے ضابطہ اخلاق بنایا ۔آپ ان میں سے ایک ہیں جنہوں نے اسے بنایا اور ضابطہ اخلاق پر عمل بھی کیا ۔انہوں نے کہا کہ تمام آئینی وقانونی ادارے ،آرمڈ فورسز ایک صفحے پر ہیں ۔دہشتگردی کیخلاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں اور کامیاب ہورہے ہیں ۔جمہوریت مضبوط ہورہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ’’اوئے‘‘ کی سیاست سے پرہیز کرنا ہوگا اگراوئے کی سیاست کی تو ہم 1980ء کی دہائی میں چلے جائیں گے ۔وزیرمملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں مدعو کرنے پر ایس کے نیازی کا شکریہ ادا کیا اور انہوں نے کہا کہ میں جو وزارت اطلاعات چلارہی ہوں یہ کیسی چل رہی ہے اس کے بارے میں وزیراعظم اور قوم نے فیصلہ کرنا ہے ۔کیونکہ میرا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے ہے اور میں نے آنکھ اس گھرانے میں کھولی لہذا معاملات ہینڈل کرنے میں زیادہ دشواری نہیں پیش آئی ۔میڈیا کی جانب سے کوریج کرنے پر اور Spaceدینے پر انہوں نے شکریہ ادا کیا ۔
مریم اورنگزیب