- الإعلانات -

شاید مزید دستاویزات منگوانا پڑیں، ترین نااہلی کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

سپریم کورٹ میں جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ آف شور کمپنی کے تحت جو اثاثہ خریدا گیا اس کی نوعیت کیا ہے؟ کتنی مالیت سے اثاثہ کب خریدا گیا؟ اثاثے کو مورٹ گیج کرایا گیا تو اس کی شرائط کیا تھیں؟ ٹرسٹ کی کوئی دستاویز ریکارڈ پر موجود نہیں۔ کیا حقائق سے پردہ اٹھانے کے لئے تحقیقات کرانا پڑیں گی؟ چیف جسٹس کے ان ریمارکس کے بعد وکیل جہانگیر ترین نے بچوں کے آف شور کمپنی کے بینیفشل مالک ہونے سے متعلق مزید دستاویزات جمع کرانے کی یقین دہانی کرا دی۔ حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ جہانگیر ترین کی الیکشن کمیشن اور ایف بی آر میں زرعی آمدن سے متعلق دی گئی معلومات میں تضاد ہے۔

جہانگیر ترین کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اپریل 2011ء میں بنی شائیننگ ویو لمیٹٹد کمپنی کو ٹرسٹ کے نیچے رکھا گیا جسے جہانگیر ترین ہولڈ کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جہانگیر ترین نے 2011ء میں ٹرسٹ کے لئے 25 لاکھ، 2012ء میں 5 لاکھ پاؤنڈز اور 2013ء میں ایک ملین ڈالرز بچوں کو دیئے، ریکارڈ پر ایسی دستاویز نہیں کہ والد کی رقم بچوں نے ٹرسٹ میں لگائی ہو؟ جہانگیر ترین کی نسبت عمران خان نے آف شور کمپنی سے متعلق واضح جواب دیا۔

وکیل سکندر مہمند نے دلائل دیئے کہ ٹرسٹ کی دستاویز اسے چلانے والی کمپنیز کے پاس ہو گی، جہانگیر ترین کے پاس ٹرسٹ کی دستاویز نہیں، مزید مصدقہ معلومات کے لئے وقت درکار ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ جو دستاویز جمع کرانی ہیں، دس روز میں جمع کرا دیں، اللہ اس ادارے کو سب کے ساتھ انصاف کرنے کی توفیق دے، جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آف شور کمپنیوں سے متعلق اسی طرح کے ایک مقدمہ میں سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آف شور کمپنی کے مالک جہانگیر ترین ہیں، درخواست گزار کے پاس اس کا کیا ثبوت ہے؟ درخواست گزار حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ جہانگیر ترین نے عدالت کو آف شور کمپنی کے بارے میں مکمل معلومات نہیں دیں، ان کے آف شور کمپنی سے متعلق بیانات کے ٹراسکرپٹ پیش کریں گے۔