- الإعلانات -

جلسے میں عمران خان مستقبل کا لائحہ عمل دیں گے: شاہ محمود

وزیر اعظم کی نااہلی کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال پر غور کیلئے منعقد ہونے والے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ میں کل کے تاریخی فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا، پارلیمانی کمیٹی نے عدلیہ کو سلام پیش کیا اور شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے تاریخی فیصلہ کیا، پاکستان میں اور بیرون ملک فیصلے پر عوام کے چہرے کھلکھلا اٹھے ہیں، ن لیگ ایک تاثر پیدا کر رہی ہے کہ یہ ایک سازش کے تحت ہوا ہے جو کہ افسوسناک ہے، بیجنگ اور واشنگٹن کے اخبارات نے ہمارے پراسیس کو سراہا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے میں سازش کا کوئی عنصر نہیں، فیئر ٹرائل ہوا، جمہوریت کیخلاف نہ سازش ہے نہ تھی اور نہ ہو گی، ہم جمہوری قدروں کو فروغ دینے کیلئے کوشاں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا، سپریم کورٹ کے فیصلے سے جمہوریت مضبوط ہوئی، عوام کل یوم تشکر میں شریک ہوں، عمران خان قوم کو کل مستقبل کا لائحہ عمل دینا چاہتے ہیں، ہم مستقبل کے پاکستان کا منظر کل یوم تشکر میں عوام کے سامنے رکھیں گے، الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے بعد این اے 120 کا حلقہ خالی ہو چکا ہے، این اے 120 سے ڈاکٹر یاسمین راشد الیکشن لڑیں گی، ہماری اولین خواہش ہو گی کہ کسی ایسی شخصیت پر اتفاق کریں جسے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر لایا جا سکے، ہم شاہد خاقان عباسی کے مقابلے میں ایک مضبوط شخصیت لانے کیلئے تبادلہ خیال کریں گے۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ہمیں کوئی اختیار نہیں کہ ن لیگ کے اندرونی معاملات میں دخل دیں، شہباز شریف جب وزیر اعظم بنتے ہیں تو وہ ن لیگ کے نہیں پاکستان کے وزیر اعظم ہونگے لیکن شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے پر پاکستان کی سبکی ہو سکتی ہے کیونکہ ان پر حدیبیہ پیپر ملز کیس ہو گا، شہباز شریف ملک کے وزیر اعظم ہونگے تو نیب کی پیشیاں بھگتیں گے جس سے بین الاقوامی سطح پر برا تاثر پیدا ہو گا۔ شاہ محمود قریشی نے یہ بھی یاد دلایا کہ پنجاب میں شہباز شریف کے دور میں ماڈل ٹاؤن میں قتل عام ہوا اور باقر نجفی کی سربراہی میں کمیشن بنا۔