- الإعلانات -

ایل ای ڈی بلب کا یہ نقصان جانتے ہیں؟

بجلی کی بچت کرنے والے بلب بہت زیادہ ٹمٹماتے ہیں اور اس سے لوگوں میں سردرد کی شکایت عام ہوجاتی ہے۔

یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

ایکسسز یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ایل ای ڈی بلب کو جلانے کے صرف بیس منٹ بعد لوگوں کو سرچکرانے اور درد کا احساس ہوسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اس طرح کے بلب کی ٹمٹماہٹ روایتی بلبوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔

ٹیوب لائٹ یا فلورسینٹ لائٹس ہر ٹمٹماہٹ کے ساتھ 35 فیصد تک مدھم ہوتی ہیں مگر ایل ای ڈی لائٹس سوفیصد تک مدھم ہوجاتی ہیں۔

آنکھوں کے سامنے اس طرح کی ٹمٹماہٹ سردرد کا باعث بنتی ہیں اور دماغ کو کام کرنے میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ توانائی بچانے والے بلب لگانے کا رجحان بڑھ رہا ہے تاہم اگر لوگوں کو ان کی ٹمٹماہٹ براداشت نہ ہو تو ان میں سر چکرانے اور درد کی شکایت عام ہوجاتی ہے۔

تحقیق کے مطابق ایل ای ڈی بلب فی سیکنڈ چار سو بار فلیش ہوتے ہیں جس سے سردرد کا امکان چار گنا تک بڑھ جاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ سردرد کا خطرہ مطالعہ کرتے ہوئے بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور اس حوالے سے آنکھوں کی پوزیشن کا خیال رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔