- الإعلانات -

‘عمران خان کو کس بنیاد پر نااہل قرار دیں؟ آپ کی درخواست میں کئی مسائل ہیں’

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے حنیف عباسی کی درخواست پر عمران خان نا اہلی کیس کی سماعت کی۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ممنوعہ فنڈز کا تعین الیکشن کمیشن کر سکتا ہے۔ حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے اختیار پر اعتراض کر چکی ہے، پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈنگ تسلیم کی، کہا گیا کہ فنڈز لیے مگر پاکستان منتقل نہیں کیے۔ اکرم شیخ کا مزید کہنا تھا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں سے فنڈز وصول کرنا بھی تسلیم کیا گیا ہے، پی ٹی آئی نے معاملے پر کمیشن کی تشکیل پر بھی مشروط آمادگی ظاہر کی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ممنوعہ فنڈز سے متعلق غیر متنازعہ دستاویزات کون سی ہیں؟ ایسے کون سے شواہد ہیں جن کی بنیاد پر فنڈز کو ممنوعہ کہہ دیں؟ جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ کیا آڈیٹر کی جانب سے آڈٹٹ اکاؤنٹس میں ممنوعہ فنڈز شامل تھے؟ حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ جھوٹا سرٹیفکیٹ دینے والا صادق اور امین نہیں ہو سکتا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ یہ دکھائیں کہ ممنوعہ فنڈز لیے گئے ہیں، پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ ممنوعہ فنڈز پاکستان نہیں آئے۔ اکرم شیخ ایڈوکیٹ نے کہا غیرملکیوں سے کسی صورت فنڈز نہیں لیے جا سکتے، عمران خان نے سرٹیفکیٹ دے کر فنڈز کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لی، جھوٹے سرٹیفکیٹ کے اثرات بھی دینے والے پر ہوں گے۔