- الإعلانات -

سعودی عرب: عوامیہ میں جھڑپیں، رہائشی علاقہ چھوڑنے لگے

اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے مشرقی قصبے میں مسلح افراد اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری جھڑپوں کے بعد سینکڑوں افراد علاقہ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

حکام مئی سے عوامیہ کے پرانے حصے کو منہدم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ان کے مطابق شیعہ شدت پسند اس علاقے کی تنگ گلیوں کو چھپنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں نے سکیورٹی فورسز پر علاقے کے رہائشیوں کو زبردستی نکالنے کا الزام لگایا ہے۔

مشرقی صوبے میں جہاں اکثریت شعیوں کی ہے میں یہ ہونے والی تازہ جھڑپیں ہیں جس میں خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اب تک کم از کم دو پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سعودی فورسز مکانوں اور گاڑیوں پر اندھا دھند فائرنگ کر رہی ہیں اور عمارتوں کو یا تو نقصان پہنچا ہے یا وہ جل گئی ہیں۔

سعودی میڈیا کے مطابق بعض رہائشیوں نے سعودی حکام سے اس علاقے سے نکلنے میں مدد کرنے اور قریبی علاقوں میں رہائش فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

سعودی شہر قطیف کے شیعہ رہائشی سنی سلطنت سے انھیں دیوار سے لگانے اور امتیازی سلوک روا رکھنے کی شکایت کرتے ہیں۔

گذشتہ مئی میں اقوامی متحدہ نے سعودی عرب کی عوامیہ کے 400 سال قدیم علاقے ال مصورہ کو منہدم کرنے کی کوششوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سے ال مصورہ کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو خطرہ ہے۔

خیال رہے کہ 2011 میں عرب سپرنگ کے بعد مشرقی صوبے میں حکومت مخالف مظاہرے اور احتجاج شروع ہوئے تھے جبکہ جنوری 2016 میں معروف شعیہ عالم دین شیخ نمر ال نمر کی سزائے موت کے بعد حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا