- الإعلانات -

سپریم کورٹ کے فیصلے پر لوگوں میں غلط رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے: افتخار چوہدری

اسلام آباد(روز نیوزرپورٹ)سپریم کورٹ کے فیصلے پر لوگوں میں غلط رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ابہام دور کرنے کیلئے بیک گراؤنڈ میں جانا ضروری ہے۔نواز شریف کیخلاف3پٹیشنز دائر کی گئی تھیں پاناما لیکس میں شریف فیملی منی ٹریل دینے میں ناکام رہی نیازی صاحب!آپ جوڈیشل معاملات کو بہت بہتر سمجھتے ہیں20 اپریل کو2ججز نے کہا نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے20 اپریل کے فیصلے کے بعد جے آئی ٹی بنی جے آئی ٹی نے شریف فیملی کیخلاف شواہد اکٹھے کیے۔کسی جج نے یہ نہیں کہا تھا کہ ان کو کلین چٹ دے رہے ہیں۔جے آئی ٹی کی کاوش کو جتنا سراہا جائے کم ہے ۔ان خیالات کا ا ظہارسابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے روز نیوز کے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ایس کے نیازی کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ بنچ میں کوئی چھوٹا بڑا جج نہیں ہوتابنچ میں سب ججز کے اختیارات ایک جیسے ہوتے ہیں بنچ نے متفقہ فیصلہ دیا کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں ہیں۔سپریم کورٹ نے آرٹیکل62-1-F کے تحت فیصلہ دیاآپ بیرون ملک ملازم ہیں مگر تنخواہ نہیں لیتے تو وہ آپ کا اثاثہ ہوگاآپ کو ویلتھ اور اثاثے گوشوارے میں ظاہر کرنا ہوتے ہیں۔آج تک شریف فیملی نے منی ٹریل نہیں دی28 جولائی گزر گئی مگر حدیبیہ پیپر ملز کیس نہیں کھل سکا۔نیب کا شریف فیملی کیخلاف دائر ہونے والے ریفرنسز میں کوئی کردار نہیں ہے۔نواز شریف پارٹی کی قیادت نہیں کرسکتے۔اسپیکر قومی اسمبلی کو نواز شریف کی تصاویر کا نوٹس لینا چاہیے تھا۔آرٹیکل62,63 میں بڑا فرق ہے نواز شریف62-1-F کے تحت نااہل ہوئے ہیں حدیبیہ کیس میں اسحاق ڈار وعدہ معاف گواہ بنے۔حدیبیہ کیس میں اسحاق ڈار کیخلاف اب کارروائی کی جائے گی۔سزا نہ ہونے تک آپ بے گناہ ہی ہوتے ہیں شریف فیملی کی18,18 کمپنیاں ہیں،جن کا حساب دینا ہے۔اب نواز شریف کا کوئی گلہ نہیں بنتا۔جو جرائم کیے ہیں ان کی سزا بھی ملنی ہے۔ایک سوال کے جواب میں افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کو بطور وزیراعظم مدت پوری کرنے دیں۔یہ اپنے لوگوں کو اس لئے لاتے ہیں کہ اپنی کمزوریاں چھپائیںآپ ایسا کھیلواڑ نہ کریں جس سے ملک کو نقصان پہنچے نواز شریف نہیں تھے تو کیا ملک میں حکومت نہیں تھی۔عمران خان کا فارن فنڈنگ کیس سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔سیاستدانوں پر اخلاقی کرپشن کے الزامات نہیں لگنے چاہئیں۔عمران خان پر لگنے والے الزامات میں نہیں پڑوں گا۔سیاستدانوں کے اخلاقیات بہت اوپر ہونے چاہئیں۔نیازی صاحب!آپ کے پاس بہت اطلاعات ہوتی ہیں ججز کے بارے میں جو باتیں کی گئیں وہ توہین عدالت ہے۔آر اوز کو شرمناک کہنے پر عمران خان نے معافی مانگی تھی۔جب میں الیکشن لڑوں گا تو میرے کاغذات چیک کرلیں۔سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ نیازی صاحب!آپ سے بہتر کوئی نہیں جانتا،نیازی صاحب!آپ جوڈیشل معاملات کو بہت بہتر سمجھتے ہیں،آپ جوڈیشل معاملات کو ایسے فالو کرتے ہیں جیسے وکیل کرتے ہیں،عدلیہ کی تحریک میں آپ ہمارے ساتھ تھے جس پر ہم آپ کے مشکور ہیں،آپ ماشاء اللہ خود بھی بہت پڑھے لکھے ہیں،آرٹیکل62 کی ساری لینگوئج کو آپ پڑھتے رہے ہیں نیازی صاحب،آپ کا تو ماشاء اللہ بہت بڑا میڈیا ہاؤس ہے،آپ کے پاس بہت ساری اطلاعات آتی ہیں۔
افتخار چوہدری