- الإعلانات -

سید خورشید شاہ نے پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کا دورہ کیا

سلام آباد(روز نیوزرپورٹ)قومی اسمبلی مین قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کا دورہ کیا ،،،اور ایڈ یٹر انچیف روزنامہ پاکستان اور چیئرمین روز نیوز ایس کے نیازی سے ملاقات کی جس میں اہم ملکی وسیاسی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے ایس کے نیازی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاہد خاقان عباسی آئین و قانون کے مطابق وزیر اعظم ہیں ،ان کو 221 ارکان اسمبلی نے اعتماد کا ووٹ دیا ہے اگر عبوری وزیر اعظم لانے کی روایت ڈالی گئی تو یہ پارلیمنٹ کے اوپر بد اعتمادی ہو گی یہ مسلم لیگ کے لئے اچھا نہیں ہو گا اس کا سیاسی طور پر مسلم لیگ ن کو نقصان ہو گا۔ایک سوال کے جواب میں خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہم 2013 میں دلبرادشتہ ہوئے تھے ہم پر لوگوں نے اعتماد نہیں کیا ہم نے 5 سال قوم کی خدمتکی تھی لیکن اب لوگوں کو اس بات کا احساس ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی ہی وہ جماعت ہے جس نے مکمل طور پر جمہوری عمل کو جاری رکھا ،دہشت گردوں سے لڑے ،مہنگائی سے لڑے ،دنیا کے مسائل سے لڑے اور پاکستان کو بہتر و خوشحال ملک بنایا ،،ایس کے نیازی سے گفتگو میں خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ایم کیوا یم ہمیشہ ہی اقتدار کی چھتری کے نیچے رہی ہے یہ اس کی مجبوری ہے کیونکہ ابھی وہ ایم کیوا یم لندن سے الگ ہوئے ہیں ،وزیر اعظم کے انتخاب پر متفقہ امیدوار پر بد قسمتی سے اتفاق نہ ہو سکا بطور اپوزیشن لیڈر ملکی مفاد اور پارلیمنٹ کو بہتر کرنے کا جو مینڈیٹ ملا ہے اس کو برقرار رکھنے کی کوشش کروں گا۔اپوزیشن لیڈر کہتے ہیں سیاستدانوں میں پیسوں کی کرپشن ہوتی ہے ،انسان میں اخلاقی کرپشن بھی ہوتی ہے انسان پیسے کی کرپشن تو بھول جاتا ہے مگر اخلاقی کرپشن کو نظر انداز نہیں کرتا کیونکہ اخلاقی کرپشن اور بھی خطر ناک ہوتی ہے۔ججز کے بارے میں اربوں کی باتیں کرنے والے توہیں عدالت کر رہے ہیں۔خورشید شاہ نے کہا کہ جو کل پارلیمنٹ میں ہو نہیں ہونا چاہیے تھا بغیر پاسز کے لوگ پارلیمنٹ ہاوس آئے اس بات کا سپیکر قومی اسمبلی کو نوٹس لینا چاہئیے کیونکہ نقصان ہو سکتا تھا
قبل ازیں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ عائشہ گلا لئی کا معاملہ قابل افسوس اور قابل جرم ہے،عورت کبھی اپنے اوپر الزام نہیں لگاتی،حقیقت کیا ہے اس کی تحقیقات ہونی چاہیں،اسی ڈر سے خواتین گھروں سے باہر نہیں نکلتیں، اجنبی شخص نواز شریف کی تصویر پارلیمنٹ میں رکھنے کا نوٹس نہ لے کر سپیکر قومی اسمبلی نے جانبداری کا مظاہرہ کیا،سپیکر قومی اسمبلی کو سخت نوٹس لینا چاہیے تھا،ایسے رویوں سے بادشاہت نظر آتی ہے،نواز شریف قومی اسمبلی کے رکن نہیں رہے،پیپلز پارٹی کی حکومت میں ہم کبھی تصویر ساتھ نہیں لائے،گیلانی دور میں بھی ذوالفقار بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی تصویر قومی اسمبلی میں نہیں لہرائی،اس عمل سے جموری سسٹم کو نقصان ہوتا ہے،اوگرا کی تجویز پر قیمتوں میں کمی نہ کرنا افسوس ناک ہے،واضح ہے حکومت ان ڈائریکٹ ٹیکسز پر یقین رکھتی ہے،حکومت نے خالی خزانہ کو بھرنے کے لیے ڈیزل پر 7 فیصد اور پیٹرول پر 3 فیصد ٹیکس میں اضافہ کیا،س بڑھانے سے 8 ارب ماہانہ خزانے میں آئیں گے، حکومت امیر اور غریب سب کو ایک ساتھ لوٹ رہی ہے۔وہ بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے خورشید شاہ نے کہا کہ ایک اجنبی شخص نواز شریف کی تصویر پارلیمنٹ میں رکھنے کا نوٹس نہ لے کر سپیکر قومی اسمبلی نے جانبداری کا مظاہرہ کیا،سپیکر قومی اسمبلی کو سخت نوٹس لینا چاہیے تھا،ایسے رویوں سے بادشاہت نظر آتی ہے،نواز شریف قومی اسمبلی کے رکن نہیں رہے،پیپلز پارٹی کی حکومت میں ہم کبہی تصویر ساتہ نہیں لائے،گیلانی دور میں بھی ذوالفقار بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی تصویر قومی اسمبلی میں نہیں لہرائی،اس عمل سے جموری سسٹم کو نقصان ہوتا ہے،عائشہ گلا لئی کا معاملہ قابل افسوس اور قابل جرم ہے،عورت کبھی اپنے اوپر الزام نہیں لگاتی،حقیقت کیا ہے اس کی تحقیقات ہونی چاہیں.اسی ڈر سے خواتین گھروں سے باہر نہیں نکلتیں،اوگرا کی تجویز پر قیمتوں میں کمی نہ کرنا افسوس ناک ہے،عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی،قیمتیں برقرار نہیں،ٹیکسز میں اضافہ کیا گیا ہے،واضح ہے حکومت ان ڈائریکٹ ٹیکسز پر یقین رکھتی ہے،حکومت نے خالی خزانہ کو بھرنے کے لیے ڈیزل پر 7 فیصد اور پیٹرول پر 3 فیصد ٹیکس میں اضافہ کیا،س بڑھانے سے 8 ارب ماہانہ خزانے میں آئیں گے، حکومت امیر اور غریب سب کو ایک ساتھ لوٹ رہی ہے۔