- الإعلانات -

لاہور: آؤٹ فال روڈ پر کھڑے ٹرک میں دھماکہ، 39 افراد زخمی

ریسکیو ذرائع کے مطابق، دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ اردگرد واقع کئی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ ابتدائی طور پر پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ دھماکہ ٹرانسفارمر اڑنے سے ہوا۔ ٹرانسفارمر اڑنے کے بعد ہائی ٹینشن تار ٹکرا گئے جس سے قریبی کالج کی عمارت بھی متاثر ہوئی۔ تاہم بعد ازاں معلوم ہوا کہ دھماکہ ایک ٹرانسفارمر کے قریب کھڑے ٹرک میں بارودی مواد پھٹنے سے ہوا۔ یہ ٹرک ایک ورکشاپ کے سامنے پلاٹ میں کھڑا تھا جس میں کوڑا اٹھانے والی نجی کمپنی کے ٹرکوں سمیت متعدد ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے ٹرک بھی موجود تھے۔

دھماکہ آؤٹ فال روڈ پر سگیاں پل کے قریب جس علاقے میں ہوا وہ ایک گنجان آباد علاقہ ہے۔ پولیس اور ریسکیو ٹیمیں یہاں دیر سے پہنچیں جس کے باعث زخمیوں کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے جس ٹرک میں دھماکہ ہوا ہے وہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ اس کے پرخچے اڑ گئے ہیں۔ دھماکے سے ورکشاپ کی عمارت مکمل طور پر اور ایک مقامی کالج کی عمارت جزوی طور پر منہدم ہو گئی ہے اور کئی افراد ملبے تلے دب گئے ہیں۔ دھماکے سے 39 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس تاحال میڈیا اور عوام کو جائے وقوعہ پر نہیں جانے دے رہی اور اس نے علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ابتدائی تحقیقات مکمل ہونے سے قبل کسی کو جائے وقوعہ پر جانے کی اجازت نہیں دے گی۔

26 زخمیوں کو میاں منشی ہسپتال اور 13 زخمیوں کو میو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ میاں منشی ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور گھروں میں موجود تمام ڈاکٹروں کو بھی ہسپتال طلب کر لیا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد صوبائی وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ خواجہ سلمان رفیق میاں منشی ہسپتال پہنچے اور انہوں نے زخمیوں کی عیادت کی۔ وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ نے ہسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔ خواجہ سلمان رفیق نے میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں کے علاج کے دوران بال بیرنگ وغیرہ لگنے کے آثار نہیں ملے جس کے بعد ابتدائی طور پر ڈاکٹروں کا یہی خیال ہے کہ دھماکہ بارودی مواد کا نہیں تھا۔ ادھر صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین کے مطابق، 10 معمولی زخمیوں کو ڈسچارج بھی کر دیا گیا ہے۔ 13 زخمیوں کو میو ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے جن میں سے 1 کی حالت نازک ہے۔

دھماکے کی جگہ پر 15 سے 20 فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا ہے۔ پولیس نے ارد گرد کے علاقوں بالخصوص بند روڈ سے منسلک افغان بستیوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور دو مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن رات گئے تک جاری رہے گا۔

تفصیلات کے مطابق، یہ ٹرک اس پلاٹ میں دو تین روز سے کھڑا تھا اور شہریوں نے پولیس کو مطلع بھی کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ ایک لاوارث ٹرک یہاں موجود ہے، اس کو یہاں سے ہٹایا جائے لیکن پولیس نے کسی کی ایک نہ سنی۔ وزیر خوراک بلال یاسین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یقینن دلایا کہ اگر پولیس کی جانب سے غفلت برتی گئی ہے تو اس معاملے کی تفتیش کی جائے گی۔

دریں اثناء، دھماکے کے بعد سے علاقے کو بجلی کی فراہمی بھی معطل ہے اور سارا علاقہ تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے اور لیسکو حکام تاحال بجلی کی سپلائی بحال نہیں کر سکے۔

دھماکے کے نتیجے میں کئی موٹر سائیکل بھی تباہ ہو گئے ہیں۔ جائے حادثہ کے اردگرد واقع مکانات اور دیگر عمارتیں چونکہ کچی تھیں اسلئے وہ حادثے سے بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

سی ٹی ڈی نے جائے حادثہ سے شواہد اکٹھے کر لئے ہیں جن میں بال بیرنگ بھی شامل ہیں جس کے بعد صوبائی وزیر سلمان رفیق کا یہ دعویٰ غلط ہو گیا ہے کہ دھماکہ بارودی مواد کا نہیں تھا۔ اب رینجرز اور ایلیٹ پولیس کے کمانڈوز نے موقع پر پہنچ کر علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز راجہ حیدر اشرف نے بھی جائے حادثہ کا معائنہ کیا۔ پولیس نے جائے حادثہ پر خصوصی لائٹس نصب کرکے وہاں سے موصول ہونے والے شواہد کو فرانزک لیب بھجوانا شروع کر دیا ہے۔

ادھر وزیر اعلیٰ پنجاب نے آئی جی پولیس سے دھماکے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ یاد رہے کہ دھماکہ شہر کے انٹری پوائنٹ پر ہوا۔ دو روز قبل طے کئے گئے روٹ کے مطابق، اسی مقام سے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گزرنا تھا تاہم بعد میں ان کا روٹ تبدیل کر دیا گیا تھا