- الإعلانات -

افغانستان: عسکریت پسندوں کا گھروں میں گھس کر قتل عام، بچوں سمیت 50 ہلاک

افغان صوبہ سرِپل کے ضلع صیاد میں عسکریت پسندوں نے مقامی پولیس کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا جہاں موجود سیکیورٹی اہلکاروں کو مارنے کے بعد وہ گاؤں میں داخل ہو گئے۔ حملہ آوروں نے بچوں اور خواتین کو گولیوں سے نشانہ بنایا اور گھروں کو آگ لگا دی۔ وحشیانہ حملے میں پچاس افراد ہلاک ہو گئے۔ صوبائی ترجمان کا میڈیا کو واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ تمام افراد کو انتہائی بے دردی سے قتل کیا گیا۔ یہ تمام کارروائی تقریباً 48 گھنٹوں تک جاری رکھی گئی۔ اطلاعات ہیں کہ عسکریت پسندوں نے قتل عام کے بعد پورے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس قاتلانہ کارروائی میں طالبان، داعش اور دیگر غیر ملکی عسکریت پسندوں نے مل کر حصہ لیا۔

دوسری جانب طالبان نے سویلین شہریوں کو ہلاک کرنے کے دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے علاقے میں موجود حکومتی ملیشیاء کے 28 اراکین کو قتل کیا۔ خیال رہے کہ افغانستان میں رواں سال دہشت گرد حملوں میں سترہ سو شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔