- الإعلانات -

بین الاقوامی خلائی مرکز کیسے کام کرتا ہے؟

تاریخی کتب کے مطابق ابتدائی ادوار میں انسان، جانوروں کے ساتھ جنگلوں میں رہا کرتا تھا. جب شعور و آگہی کے دروازے کھلنے شروع ہوئے تو اس کے رہن سہن کے طریقے تبدیل ہوتے گئے۔ تن ڈھانپنے کے لیے کپڑا اور رہائش کے لیے پختہ گھروں کی ضرورت محسوس کی گئی اور یوں بتدریج ارتقائی منازل طے کرتا ہوا انسان آج کے ڈیجیٹل دور میں داخل ہوا جہاں ہر شے اسے ایک کلک پر دستیاب ہے۔

مگر اس کی ازلی فطرت اسے ہمیشہ کچھ نیا کر دکھانے پر اکساتی رہی ہے، جن میں سے ایک ’خلا کو تسخیر‘ کرنے کا دیرینہ خواب بھی تھا۔ 1969 میں اپولو الیون کی کامیاب لینڈنگ اور نیل آرم سٹرانگ کی چاند پر محدود مٹرگشت کے بعد سائنسدان شدت کے ساتھ ایک ایسے خلائی مرکز کی کمی محسوس کر رہے تھے جو نہ صرف خلا میں مناسب انسانی پہنچ پر ہو بلکہ اسے طویل عرصے تک خلائی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔