- الإعلانات -

‘انصاف نہ ملا تو تحریک قصاص کے اگلے مرحلے میں دھرنے کا اعلان کروں گا’

سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری نے ناصر باغ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا حکمرانوں کے مواخذے کا وقت آگیا،ایک شخص اقتدار سے برطرف ہوا اور پوچھتا ہے میرا قصو کیا ہے۔ انہوں نے کہا جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ نے پورا ہاتھ شہبازشریف اور ان کی حکومت کی طرف کر دیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا شریف خاندان نے کس دولت سے جائیدادیں خریدیں، تحقیقاتی کمیٹیوں نے آپ کو پورا وقت دیا لیکن کچھ ثابت نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا نواز شریف نے قوم کو دھوکا دیا پارلیمنٹ کے فلور اور سپریم کورٹ میں جھوٹ بولا گیا۔ سربراہ عوامی تحریک نے کہا عدالت میں جعلی کاغذات جمع کرانے پر 7 سال قید ہوسکتی ہے لیکن سپریم کورٹ نےابھی بھی آپ سے رعایت برتی۔ انہوں نے کہا شریف فیملی جے آئی ٹی میں جا کرجھوٹ بولتی رہی، نواز شریف کو بد دیانتی اور جھوٹ کے باعث نااہل قرار دیا گیا، یہ ڈھٹائی ہے، گھر بیٹھنے کے بجائے جی ٹی روڈ سے آنے کا کہہ رہے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے خطاب میں مزید کہا نوازشریف کو جمہوریت پر یقین نہیں۔انہوں نے کہا آپ کو حکومت سے ہٹا دیا جائے تو پھر جمہوریت کو نہیں مانتے، سارا کچھ آپ کے ہاتھ میں ہے پھر بھی کہتے ہیں ملک میں جمہوریت نہیں۔ سربراہ عوامی تحریک نے نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اپنی ذہنیت کاعلاج کریں، مال روڈ پر جگہ جگہ نوازشریف کے حق میں بورڈ لگے ہیں۔ انہوں نے کہا نواز شریف بد دیانتی، لوٹ مار کرنے کا نام ہے، کیا ن لیگ کی حکومت، وزیراعظم اور کابینہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ن لیگ نے سپریم کورٹ پر حملہ کرایا تھا، نوازشریف کے خلاف فیصلہ میری توقع کے خلاف آیا، تمہارے اقتدار میں ہم لاشیں کندھوں پراٹھا کر پھر رہے ہیں، ہم انصاف کے لیے دربدر دھکے کھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا پاناما جے آئی ٹی کو ہی سانحہ ماڈل ٹاؤن کا کیس دے دیا جائے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے مزید کہا ہم نے جی ٹی روڈ پر احتجاج کیا لیکن تب آپ کو للکار رہے تھے۔ انہوں نے کہا ہم آپ کی طرح گول مول باتیں نہیں کر رہے ، جس آزاد عدلیہ کی تحریک چلائی آپ نے چلائی تھی انھوں نے ہی فیصلہ کیا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا سپریم کورٹ نے اسمبلیاں نہیں توڑیں، نوازشریف آج ایک گالی ہے۔ انہوں نے کہا نوازشریف آج بددیانتی کا نام ہے، جب آپ کہتے ہیں ہم نوازشریف ہیں یعنی آپ خود کو گالی دیتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے مزید کہا میری تقریر سن لی تو آپ جی ٹی روڈ پر تماشا بند کر دیں، آپ نے جی ٹی روڈ سے آنا ہے یا نہیں آج لاکھوں کا مجمع مال روڈ پر آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا آج تخت لاہور کا فیصلہ ہو گیا ہے، سپریم کورٹ سے امید کی کرن پھوٹی ہے۔ قوم جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑی ہے۔ سپریم کورٹ ماڈل ٹاؤن میں ملوث لوگوں کو بے نقاب کرے۔

قبل ازیں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری صبح 8 بجے کے قریب وطن واپس پہنچے، کارکنوں کی بڑی تعداد نے اپنے قائد کا شاندار استقبال کیا۔ کارکنان کی جانب سے گل پاشی، ڈھول کی تھاپ پر رقص اور قائد کے حق میں نعرے بازی کی گئی، سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے۔ ائر پورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا پارٹی رہنما اور کارکنوں کی کثیر تعداد کوخوش آمدید کہتا ہوں۔ انہوں نے کہا 4 ماہ ہو گئے کینیڈا نہیں گیا، پاکستان ہی میرا گھر ہے۔ پاکستان میں میرے کارکنوں کاخون بہا ہے۔ ڈاکٹرطاہر القادری نے کہا اب انصاف ملنے کا امکان روشن ہو گیا ہے، اللہ کے ہاں دیر ہو سکتی ہے، اندھیرنہیں۔انہوں نے کہا اس ملک میں ہر روز غریبوں کا خون بکتا ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ سربراہ عوامی تحریک نے کہا دیت کے نام پر خون بیچا جاتے ہیں، غریب کو کوئی تحفظ حاصل نہیں، ناصر باغ میں آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کروں گا۔ انہوں نے کہا 4 سال بعد آرٹیکل 62 کو زبان ملی ہے، نوازشریف کوجھوٹ اور لوٹ مار پر نا اہل کیا گیا، یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت پر نا اہل کیا گیا۔

واضح رہے عوامی تحریک کے جلسے میں اپوزیش جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی جن میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے شاہ محمود قریشی، چودھری سرور، سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید سمیت دیگر بھی موجود تھے۔