- الإعلانات -

صنفی تفریق سے متعلق مراسلہ لکھنے والا گوگل ملازم نوکری سے فارغ

گوگل نے حال ہی میں ٹیکنالوجی سے متعلق ملازمتوں کو خواتین کے لیے مناسب نہ قرار دینے والے اپنے ایک ملازم کو برطرف کردیا۔

واضح رہے کہ حال ہی میں گوگل کے ایک سافٹ انجینئر نے ایک گوگل فورم پر اپنے مراسلے میں ٹاپ پوزیشنز پر اقلیتوں اور خواتین کی تعداد کو بڑھانے سے متعلق کمپنی کی کوششوں پر تنقید کی تھی۔

ان کا کہنا تھا، ‘سلیکون ویلی یعنی امریکا کی ٹیکنالوجیکل انڈسٹری کی نوکریوں میں مرد و خواتین کا فرق جینیات (بائیولوجیکل) کی وجہ سے ہے اور خواتین ٹیکنالوجی سے متعلق ملازمتوں کے لیے زیادہ مناسب نہیں ہوتیں’۔

اگرچہ گوگل کی جانب سے اب تک برطرفی کی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی، مگر اس خبر نے اس تنازع کو ہوا دی ہے کہ کمپنی ‘سیاسی درستگی‘ کی وجہ سے اظہارِ آزادی پر پابندی عائد کر رہی ہے۔

اس حوالے سے گوگل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کمپنی ہر ملازم کے کیس پر تبصرہ نہیں کرسکتی‘۔

ملازمین کو بھیجی گئی ایک ای میل میں گوگل کے چیف ایگزیکٹو سندر پچائی نے ملازمین کے اظہار رائے کی حمایت کی اور کہا کہ مذکورہ میمو (مراسلے) میں شامل بہت سی باتوں پر بحث کی جاسکتی ہے۔

ای میل میں مزید کہا گیا ’مراسلے میں بہت سی ایسی باتیں بھی تحریر کی گئیں جو ہمارے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے اور اس سے ہمارے ادارے میں صنفی تفریق جیسی دقیانوسی باتیں جگہ لے سکتی ہیں‘۔

تاہم انہوں نے مراسلہ لکھنے والے انجینئر کی جانب سے گوگل ٹریننگ اور کام کے انداز پر تنقید کا دفاع کیا اور بتایا کہ وہ اس طرح کی باتوں پر اپنی رائے کا اظہار کرسکتے ہیں۔