- الإعلانات -

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرزکا ضابطہ اخلاق ایک اچھی کاوش ہے:مولانافضل الرحمن

اسلام آباد(عزیراحمد خان)جمعیت علماء اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ نواز شریف سیاسی شخصیت ہیں ان کی اپنی سوچ اور اپنا موقف ہے ۔معذولی کے بعد انہوں نے عوامی رابطہ مہم کو ترجیح قرار دیا ۔جب میں ان کے پاس گیا توکہا کہ یہ آپ کی صوابدید ہے کہ جائیں یا نہ جائیں ہم مداخلت نہیں کرسکتے ۔میاں نوازشریف نے لازمی طورپر مشورہ کیا ہوگا کہ وہ کیسے جانا چاہتے ہیں ۔اداروں میں مزاحمت نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا تصور بھی ہونا غلط ہے ۔جہاں تک نوازشریف کا یہ کہنا کہ ان کیخلاف سازش ہوئی ہے تو سازش کی تشریح انہوں نے ہی کرنی ہے ۔نوازشریف نے فیصلے کی تعمیل ضرور کی مگر دل ودماغ سے اسے تسلیم نہیں کیا ۔عوامی سطح پر بھی اس حوالے سے عام تاثر یہی ہے کہ نااہلیت کی وجہ بہت معمولی سی چیز ہے ۔عدلیہ آئین وقانون کی باریک بینیوں کو عام آدمی سے بہت زیادہ سمجھتی ہے ۔عام سوچ یہ ہے کہ کسی آدمی نے بہت کمایا اور پھر وہ نااہل ہوگیا لیکن یہاں تو وجہ یہ ہے کہ کمایا ہی نہیں تنخواہ ہی نہیں لی اور یہ وجہ نااہلی کی بنی ۔ضروری نہیں کہ فیصلے سے اتفاق ہو تعمیل ہونا ضروری ہے جو کہ ہوگئی ۔میں نے جو بات کی ہے اس میں نوازشریف کو نہیں اس میں ملک کومدنظررکھا ۔اس وقت ایک بین الاقوامی ایجنڈا ہے جو اسلامی ترقی پذیر ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کیلئے سازشیں کررہا ہے کہ کس طرح وہ دنیا کے وسائل پر قبضہ کرے ۔طاقت کا استعمال کرے اس سلسلے میں دہشتگردی کیخلاف اقدام کو استعمال کرکے یہ بیرونی طاقتیں متعلقہ جگہ پر پہنچ رہی ہیں ۔ہماری نظر میں پانامہ کہاں کھڑا ہے ،ہم کدھر ہیں ،دنیا میں پانامہ کے حوالے سے کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں لیکن ہمارے ملک میں بہت بڑا فیصلہ ہوگیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے روزنیوز کے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں ایس کے نیازی کے ساتھ طویل ترین انٹرویو کے دوران کیا ۔انہوں نے کہا کہ ایک دلیل یہ ہے کہ گذشتہ پندرہ سالوں میں چین نے اقتصادی طور پر ابھرنے کا فیصلہ کیا اس نے ایک ویژن دیا یہ امریکہ کیلئے ایک چیلنج ہے ۔دنیا میں سرد جنگ شروع ہوچکی ہے ،سی پیک کی صورت میں پاکستان ترقی کرے گا لیکن کچھ قوتیں اس کو تہہ وبالا کرنے کیلئے درپے ہیں ۔مسلم ممالک جن میں سعودی عرب ،ایران،اعراق ،پاکستان شامل ہیں وہاں حالات عدم استحکام کا شکار ہیں ۔خلیج کی جنگیں بھی کرائی گئیں وہاں پر بھی حالات خلفشار کا شکار ہیں ہم نے آئندہ دس سے پندرہ سال کے دوران بہت کچھ حاصل کرنا ہے ۔لیکن جو قوتیں سی پیک کو تباہ کرنا چاہتی ہے انہیں ہم نے ناکام بنانا ہے ۔میں بنیادی طور پر ملک میں اداروں کی باہمی چپقلش اور تصادم کیخلاف ہوں یہ ایکٹ قومی یکجہتی کیخلاف ہے ملک میں کئی دفعہ مارشل لاء لگا ۔دور جمہوریت میں ہر شخص کو یہ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ کہیں پارلیمنٹ یا جمہوریت کے ساتھ کچھ نہ ہوجائے ۔پھر پکڑے نہ جائیں ،ہمیں اور اداروں کو ایک دوسرے کو بھروسہ دینا ہے ۔اگر دنیا میں دوست پڑوس ممالک مضبوط ہوں تو دونوں ممالک طاقتور بنیں گے ۔ایک بیمار دوسرے بیمار کے کیا کام آسکے گا ۔پورا یورپ ایک دوسرے ملک کا احترام کرتا ہے ،ہر شخص اپنی ترقی میں مگن ہے ،مگر ایشیائی ممالک اور مسلم ممالک ایک دوسرے کو فتح کرنے کے درپے ہیں ۔اس کے پس پردہ وہ قوتیں کارفرما ہیں جو ہمارے اقتصادی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں آج ضرورت اس امر کی ہے کہ آزادی فکر کی تحریک نئی نسل میں چلانا ہوگی اس کیلئے محنت ضروری ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مشرف دور میں الیکشن ہوا ،اسمبلیاں بنیں ہم یہ کہتے ہیں کہ عوام نے جس ادارے کو منتخب کیااس کو جو وقت دیا اسے مدت پوری کرنی چاہیے ۔میں اس دور میں اپوزیشن لیڈر تھا کیا کیا الزامات نہیں عائد ہوئے ۔فرینڈلی اپوزیشن کہا گیا مگر ہم کہتے ہیں کہ جب عوام نے جس وقت کیلئے منتخب کیا ہے اسے پورا ہونا لازمی قرار دیا جانا چاہیے ۔سڑکوں کے راستے فتوحات اختیارکرنا درست نہیں ۔عمران خان کے حوالے سے انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے جب یہ کہا کہ ’’سڑک چھوڑو ادھر آجاؤ‘‘اس حوالے سے عمران خان سے پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے یہ بات کیوں کہی ۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حقیقت بات یہ ہے کہ پانامہ کیس کے حوالے سے میرا دل ودماغ بھی اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا اور تذبذب کا شکار ہے ۔سیاسی فتوحات کیلئے موشگافیوں کو استعمال کرنا اچھا نہیں ۔المیہ یہ ہے کہ ہمارا ملک غیر سنجیدہ لوگوں نے یرغمال بنا لیا ہے ۔میں تو میڈیا سے آج کل پرہیز کرتا ہوں جو سیاست آج کل شروع ہوئی ہے اس پر شرم محسوس ہوتی ہے اور میں سخت کرب محسوس کررہا ہوں ۔جب ان سے عمران خان اورعائشہ گلالئی کے معاملے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس کو تو ڈسکس ہی نہیں ہونا چاہیے ۔پاکستان کی اخلاقیات کدھر جارہی ہیں ہم کس سطح پر پہنچ گئے ہیں میں نے تو ساری زندگی ایسا ماحول نہیں دیکھا ۔مجھے اپنی عزت بہت محترم ہے ہر مرد عورت کی عزت کا احترام کرتا ہوں ۔میں تو ایسے موقع پر بھی فائدہ اٹھانے کا قائل نہیں اورنہ ہی سرراہ اس حوالے سے کوئی مسئلہ زیر بحث لاتا ہوں ۔دوسروں کی بات کرنا ہی پسند نہیں کرتا ۔میرا کسی سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے حوالے سے 1996ء میں حکیم سعید اور 1997ء میں نوابزادہ نصر اللہ نے باتیں کی تھیں میں تو آج بات کررہا ہوں ۔ہمارا نظریاتی اختلاف ہے ۔انگریزکے افکار اس ملک میں نہیں آنے چاہئیں ۔آج دنیا میں دو قسم کے لوگ ہیں ایک وہ جو حکومت کرنا چاہتا ہے اس کی خواہش ہے کہ وہ حکومت کرے اور دوسرا وہ جس کوباقاعدہ سیاست میں لانچ کیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے تاریخ ہند میں ایک بڑا اجتماع کیا ۔ہماری جماعت ایک ذمہ دار جماعت ہے ۔دنیا بھر میں ہماری بات سنی جاتی ہے ،ہمارے موقف کی حمایت کی جاتی ہے ،ہمیں عوامی اعتماد حاصل ہے ،وقت کہتا ہے کہ ایک نئے ویژن کے ساتھ آگے بڑھیں ۔کے پی کے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بس نیازی صاحب انتخابات کا انتظار کریں سب کچھ سامنے آجائیگا ۔2018ء کے الیکشن سے قبل ہونے والے الیکشن میں جو کچھ ہوا ایسا نہیں ہونا چاہیے ۔الیکشن آزادانہ اورفیئر ہونے چاہئیں ۔یہ بھی بدقسمتی ہے ہمارے جب الیکشن ہوتے ہیں پانچ سال تک ان پر سوالیہ نشان لگا رہتا ہے ۔اگر عوام مجھے اقتدار دینا چاہتی ہے تو دے ۔اس کو تسلیم کرنا چ چاہیے ۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میڈیا میں سات بجے سے لیکر گیارہ بجے تک ایک مچھلی بازار بنا رہتا ہے ۔چار سالوں میں پاکستان نے ترقی کی شرح نمو ساڑھے پانچ فیصد حاصل کی جو کہ ایک ریکارڈ ہے آج دنیا ہمارے ساتھ کاروبار کرنا چاہتی ہے ۔یہ ایک تدریجی عمل ہے ملکی ترقی کیلئے اگر قرضہ لیا جائے تو اس سے بہتری ہوتی ہے ۔وفاقی وزیر برائے آبپاشی کے کالا باغ ڈیم کے حوالے سے کیے گئے سوال پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جب فنی معاملے سیاسی بن جائیں تو پھر ان کی واپسی مشکل ہوتی ہے ۔کالا باغ ڈیم کے حوالے سے بلوچستان اورسندھ کی اسمبلیوں میں قراردادیں موجود ہیں ۔آخر ہم کیوں ایسے مسئلے پر رکے ہوئے ہیں جو حل نہیں ہوپارہا ۔کیا اس کے متبادل کوئی معاملہ نہیں اس کے بارے میں ماہرین نے فیصلہ کرنا ہے ۔میں تو ایک سیاسی طالبعلم کی حیثیت سے یہ بات جانتا ہوں کہ آخر ایک مسئلے پر ملک میں جمود کیوں طاری کیا جائے ۔اس کا نعم البدل ہونا چاہیے ۔پھر ایک وفاقی وزیر نے یہ مسئلہ اٹھایا تو اس کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس بارے اس کی پارٹی کا کیا موقف ہے ۔کالا باغ ڈیم کے حوالے سے وفاقی وزیر برائے آبپاشی کی خواہش اچھی ہے لیکن کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن سے ملکی یکجہتی متاثر ہو تو ایسے میں یکجہتی کو برتری دی جاتی ہے ۔جس پر تحفظات ہوں اور جو مسئلہ متنازعہ ہو اس کے متبادل چیزیں دیکھی جاتی ہیں مثلاً بھاشا ڈیم بن رہا ہے ،گومل زام ڈیم ہے اس پر بھی کام ہونا چاہیے ۔آخر جو چیزیں طے شدہ ہیں ان پر کوئی نہیں کام کیا جاتا ۔میرے پاس ایسی بارہ لاکھ ایکڑ زمین ہے جس میں اگر پانی کی سہولت میسر ہوجائے تو وہاں سے ہم بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں ۔ڈیرہ اسماعیل خان سے ٹانک تک بے تحاشا وسائل ہیں ان پر کام کرنا چاہیے ۔جو نہریں سلٹ اپ ہورہی ہیں ان کی صفائی کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کے معاملے پر ہم جمود کا شکار نہیں ہوئے ۔اگرصوبوں کو اعتراض نہیں تو ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں جب وفاق میں سندھ کی حکومت تھی تو وہ اپنے سندھ کے عوام کو مطمئن نہیں کرسکی ہمیں صوبائی سیاست سے نکل کر قومی سیاست کرنا ہوگی ۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کو حل ہونا چاہیے ۔دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر اجاگر ہوچکا ہے ۔کشمیریوں نے جو قربانیاں دی ہیں وہ بھی رنگ لائیں گی ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں مسلح تنظیموں کے حق میں نہیں ۔اسلحہ کی بنیاد پر سیاست کرنا مناسب نہیں ۔اگر کوئی ایسی جماعت جو اپنا سفر سیاست کی طرف موڑتی ہے تو ہمیں اسے خوش آمدید کہنا چاہیے۔جماعت الدعوۃ کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر وہ سیاسی دھارے میں آرہی ہے تو ہمیں اسے ویلکم کرنا چاہیے ۔مسلح تنظیموں کو سیاست کی ترغیب دینا بھی وقت کی ضرورت ہے ۔ان کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے ۔فاٹا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فاٹا کا جو بھی مسئلہ درپیش ہے اس کو وہاں کی عوام کی مرضی سے حل کرنا چاہیے ۔125سال سے علاقہ کے لوگ ایک نظام کے تحت رہ رہے ہیں ۔جمعیت علماء اسلام کسی بھی مسئلے میں فریق نہیں ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ وہاں کے عوام کی جو مرضی ہو وہ فیصلہ ہونا چاہیے ۔ترکی کے صدر نے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کرنے کیلئے عوام سے رائے پوچھی اسی طرح سکاٹ لینڈ نے اپنے لوگوں سے پوچھا کہ وہ یورپ کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ۔عوام نے جو فیصلہ کیا اس پر انہوں نے عمل کیا ۔فاٹا کے معاملے کو بھی ایشو بنایا جارہا ہے ۔قوم کو ایجوکیٹ کرنے کی ضرورت ہے ۔آج مسئلہ کشمیر فرنگی کا پیدا کردہ ہے تو ہم پھر کیوں ایک ایسا مسئلہ پیدا کررہے ہیں جس سے مزید مسائل پیدا ہوں ۔پاک افغان انٹرنیشنل سرحد ہے اگر کل افغانستان کی عوام اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیتی ہے اور اس سے پھر یقینی طور پر مسائل پیدا ہوں گے ۔ہم اگر داخلی مصلحتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی کے دباؤ میں آکر فاٹا کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرلیتے ہیں تو پھر اس کے خوامخواہ نتائج بھگتنا ہوں گے۔ابھی ہمارے آئی ڈی پیز کے مسائل ہیں ان کے گھروں کا مسئلہ ہے وہ لوگ جس رہن سہن کے عادی ہیں وہ فراہم نہیں کیا جاسکتا ۔مسائل کو سنجیدگی سے آگے لیکر جانا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور افغانستان کے حوالے سے ہماری خارجہ پالیسی ناکامی کا شکار ہے ۔ہمارے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں جب بھی ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوتے ہیں تو سمجھ لیں یہ مسائل کا آغاز ہیں ۔طاہرالقادری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کی سوئی ماڈل ٹاؤن پر اٹک گئی ہے وہ آتے ہیں جلسہ کرتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں ۔اشتعال انگیز سیاست سے بچنا چاہیے ۔ان سے سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے بارے میں جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جو سول سوسائٹی اور دیگر تنظیمیں ہیں ان میں کون سا اتحاد ہے ۔یوم آزادی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یوم آزادی کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے پاکستان کتنی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ۔قائد نے ہمیں ایمان،اتحاد ،تنظیم ،یقین محکم کا جو فارمولا دیا تھا کیا ہم آج تک اس پر پورا اترے ہیں ۔ہمارے قائد کا فرمان آج تک تشنہ ہے ۔ہم نے اس ملک کو ہر قیمت پر چلانا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم آئین کی شق 62اور 63کے حامی ہیں ۔اس کو ہم نے تحفظ فراہم کیا لیکن بات یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 6پر کیوں نہیں عمل ہوپارہا ۔62اور 63کے تحت قانون سازی کی گئی اس کی تشریح ضروری ہے ۔آئین اصولوں تو دے دیتا ہے اس پرعمل کس طرح ہوتا ہے وہ بتانا ضروری ہے ۔اس حوالے سے تمام جماعتوں کو بیٹھنا چاہیے آئین کا مطالعہ کریں ،قانون کوئی برا نہیں ہوتا اس کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ چودہ اگست کے دن ہمیں یہ عہدہ کرنا ہوگا کہ ہم نے پاکستان کو عدم استحکام سے بچانا ہے ۔ماضی میں جو کچھ ہوا اس کو بھلا کر آگے بڑھنا ہوگا ۔ایسی صورتحال پیدا نہ کی جائے جس سے مستقبل مخدوش ہو ۔ن لیگ ،اپوزیشن ،تحریک انصاف سب مل کر بیٹھیں اور تمام کو حالات بہتر بنانے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا ۔میں کبھی بھی کسی شخص کا نہیں جمہوریت کا دفاع کرتا ہوں ۔اداروں میں اعتماد پیدا کرنا چاہیے ۔جو خواب پاکستان کے بانیان نے دیکھا تھا اس کو ہم سب نے مل کر اتحاد واتفاق سے پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے ۔جے یو آئی (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور روز نیوز کے دفاتر میں تقریباً تین گھنٹے وقت گزارا۔
مولانافضل الرحمن