- الإعلانات -

گیس اصلاحات گھریلو صارفین پر اثر انداز ہوں گی

گیس سیکٹر میں دو مختلف قیمتوں کے تعین پر حکومتی دعوؤں کے باوجود وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں بننے والی گیس سیکٹر اصلاحات کی وجہ سے گھریلو صارفین کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ وزارتِ پیٹرولیم اور قدرتی وسائل نے عالمی بینک کو گیس سیکٹر اصلاحات کے منصوبے میں شامل کیا تھا تاہم عالمی بینک نے 1992 میں متعارف کرائے گئے پاور سیکٹر کی تحلیل جیسی پیشکش کی تھی۔

ابھی تک وزیراعظم اس حوالے سے مشترکہ مفادات کونسل اور اس کے ذیلی اداروں کو متحرک کرچکے ہیں تاکہ وہ گیس سیکٹر اصلاحات پر کام کر سکیں جسے اب تک کسی نہ کسی وجہ سے صوبوں کی مخالفت کا سامنا ہے۔

ایک آزاد مشیر (کے پی ایم جی تاثیر ہادی اینڈ کو) نے ان اصلاحات کا نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ 10 برس کے اندر چار مختلف اصلاحات کے تحت گھریلو اور تجارتی صارفین کے لیے گیس کے نرخ میں 170 سے 330 فیصد تک اضافہ ہوجائے گا جبکہ 2026 میں قدرتی گیس کے نرخ درآمد شدہ آر ایل این جی سے کم ہی ہوں گے۔