- الإعلانات -

کسٹمزہاؤس میں رشوت خوری سے نمٹنے کیلیے نئے اقدامات

کراچی: کسٹمز ہاؤس کے مختلف کلکٹریٹس میں انسدادرشوت ستانی مہم کے تحت چیف کلکٹریٹ اپریزمنٹ نے ڈیوٹی کے دوران کسٹمزافسران اورکلیئرنگ ایجنٹس وٹریڈرزکے درمیان براہ راست وبالواسطہ رابطوں میں کمی کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کردیا ہے جو 25 ستمبر2017 سے موثر بہ عمل ہوں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ 3 ہفتے قبل شروع ہونے والی اس مہم کو توسیع دیتے ہوئے یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ متنازع کیسوں کی سماعت کے نئے اوقات کار روزانہ صبح10 بجے تا دوپہر 12 بجے اورسہ پہر 3 بجے تا شام ساڑھے4 بجے ہوں گے لیکن دوران سماعت متعلقہ پرنسپل اپریزر، اسسٹنٹ وڈپٹی کلکٹرزکے ساتھ کسی بھی کلیئرنگ ایجنٹ یا ٹریڈر سے رابطہ کرنے پراس وقت تک پابندی ہوگی جب تک محکمہ کسٹمز میں داخل کردہ گڈز ڈیکلریشن آؤٹ آف چارج ہوکرگیٹ سے باہرنہ نکل جائے۔

ہدایات میں کہا گیا ہے کہ اگراس دوران کسی نے رابطہ کرنے کی کوشش کی تواسے بدعنوانی اور بے ضابطگی تصورکیاجائے گا۔ یہ بھی ہدایت جاری کی گئی ہے کہ فنانس ایکٹ مجریہ2017 کے مطابق محکمہ کسٹمز میں متنازع کیسوں کی سماعت کے دوران لائسنس یافتہ کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس ازخود کسی درآمدکنندہ یا ٹریڈر کی نمائندگی نہیں کرسکے گا، نئی ہدایات میں اسیسمنٹ وکسٹمز ایگزامنیشن کے دوران اسیسمنٹ ہال میں تعینات کسٹمز افسران پرذاتی موبائل فونزکے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے اوریہ پابندی ہنگامی نوعیت کی ذاتی کال سننے پر بھی ہوگی تاہم محکمہ کسٹمز کی جانب سے کسٹمز افسران کو محکمہ کسٹمزہیڈکوارٹرزکی جانب سے لینڈلائن یاموبائل فون کی سہولت فراہم کی جائے گی۔