- الإعلانات -

کیمسٹری کا نوبیل انعام تین سائنسدانوں کے نام

امریکا، برطانیہ اور سوئٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں کو الیکٹرون مائیکرو اسکوپی یا مالیکیولز کے تھری ڈی تصاویر بنانے کا آسان طریقہ دریافت کرنے پر کیمسٹری کے نوبیل انعام دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

نوبیل انعام تقسیم کرنے والی رائل سوئیڈش اکیڈمی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 1.1 ملین ڈالر کا انعام جیکوئس ڈبوشیٹ، جوکھم فرینک اور رچرڈ ہینڈرسن کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔

بیان کے مطابق تینوں سائنسدانوں کی طرف سے دریافت کئے گئے کرایو الیکٹرون اسکوپی نامی طریقے کے نتیجہ میں بائیوکیمسٹری ایک نئے دور میں داخل ہو گئی ہے۔

اس طریقہ کار کی وجہ سے ماہرین بائیومالیکیولز کو ان کی حرکت کے دوران منجمد کر سکیں گے اور ان کی ایسی واضح تصاویر بنا سکیں گے جو پہلے بنانا ممکن نہیں تھا۔

اس طریقے میں نمونے کو ایک دھاتی جالی پر منتقل کیا جاتا ہے اور اضافی مواد اس سے علیحدہ کر دیا جاتا ہے۔

اس کے بعد اس پر پانی کی تہہ چڑھا کر اسے مائع نائٹروجن کی مدد سے ٹھنڈا کیا جاتا ہے اور پھر اسے الیکٹرون مائکروسکوپ سے دیکھا جاتا ہے۔

اس سے قبل رائل اکیڈمی نے طب کے لیے نوبیل انعام حیاتیاتی گھڑی کے راز سامنے لانے والے محققین کو دینے کا اعلان کیا تھا۔

اسی طرح طبیعات کا نوبیل انعام  دریافت کرنے والے سائنسدانوں کے نام رہا تھا۔