- الإعلانات -

جنرل اسکاٹ ملر افغانستان میں غیرملکی فورسز کے نئے کمانڈر بن گئے

جنرل اسکاٹ ملر نے افغانستان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکا اور نیٹو فورسز کی کمان سنبھال لی۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 2013 سے خصوصی یونٹس کو کمانڈ کرنے والے جنرل اسکاٹ ملر نے جنرل جان نیکولسن کی جگہ لی ہے جو گزشتہ 2 برس سے زائد عرصے سے فورسز کے کمانڈر تھے۔

افغانستان میں غیرملکی فورسز کی کمان کی تبدیلی 17 سالہ جنگی دور کے حساس موقع پر ہوئی ہے جب افغان طالبان کی جانب سے حملوں میں شدت آئی ہے جبکہ کئی علاقوں میں امریکا اور افغان فورسز کی جانب سے بہتری بھی دکھائی گئی ہے۔

امریکی اتحادیوں کی جانب سے 2001 میں افغانستان کی حکمرانی سے بے دخل کرنے کے 17 برس بعد اتحادی ایک مرتبہ پھر طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں۔

رواں سال جون میں عیدالفطر کے دوران غیرمتوقع طور پر عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد جولائی میں قطر میں امریکی عہدیداروں اور طالبان کے نمائندون کے درمیان جنگ کے خاتمے کی امید کے ساتھ مذاکرات ہوئے تھے۔

—فوٹو:اے ایف پی
—فوٹو:اے ایف پی

دوسری جانب طالبان اور دولت اسلامیہ گروپ کے دہشت گردوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں سے سیکڑوں اہلکار اور شہری جاں بحق ہوچکے ہیں جس کے باعث مذاکرات کی کامیابی کی امیدیں دم توڑتی نظر آرہی ہیں۔

جنرل اسکاٹ ملر نے کابل میں کمان کی تبدیلی کے دوران اعتراف کیا کہ ‘یہ ایک مشکل جنگ ہے’ جہاں اعلیٰ افغان عہدیداروں کے علاوہ غیرملکی سفارت کاروں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اسٹیس کو کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، ہم آرام طلبی کے متحمل نہیں ہوسکتے، ہمیں ہر طرف سے باخبر ہونا چاہیے اور آسان نتائج تک پہنچنا چاہیے تاکہ وہ یہاں موجود نہ ہوں’۔

خیال رہے کہ ملر نے گزشتہ 2 برس کے دوران جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ (جے ایس او سی) کی سربراہی کی ہے اور امریکا کے چند اعلیٰ ترین فائٹرز سے کام کرنے کا تجربہ ہے۔

سابق کمانڈر نیکولسن عہدے سے منتقلی کے بعد واپس پنٹاگون جائیں گے اور وہ افغانستان میں طویل عرصے تک نیٹو اور امریکی فورسز کے کمانڈ رہے ہیں۔