- الإعلانات -

افغانستان میں اعلیٰ حکام کے استعفوں سے سیکیورٹی بحران کا خدشہ

کابل: افغانستان میں حال ہی میں اعلیٰ حکام کی جانب سے استعفے دیے جانے سے سیکیورٹی بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

افغان وزیر داخلہ ویس برمک اور ڈپٹی پولیس چیف کابل کے درمیان کشمکش کا آغاز دارالحکومت کابل پر راکٹ حملے کے بعد ہوا تھا اس سے قبل طالبان نے غزنی کا کنٹرول حاصل کرکے سیکڑوں فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو قتل کیا تھا۔

اس حوالے سے وزیرداخلہ ویس برمک کا کہنا تھا کہ ’ عہدیداران کے درمیان سیکیورٹی معاملات پر تنازع مایوسی کو ظاہر نہیں کرتا لیکن یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم بہتر حکمت عملی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

اسی ہفتے میں قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر مستعفی ہوگئے تھے۔ وہ حکومت کے طاقتور ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ وہ آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخاب میں اشرف غنی کے مدمقابل ہوں گے۔

دیگر تین اعلیٰ عہدیداران میں وزیر داخلہ ویس برمک، وزیردفاع طارق شاہ بہرامی اور انٹیلی جنس چیف معصوم ستانکزئی نے بھی استعفیٰ پیش کیا تھا لیکن صدر اشرف غنی نے ان کے استعفیٰ منظور نہیں کیے۔

سینئر عہدیداران کے جانے سے ماضی بڑے سیکیورٹی نقصانات کو سامنا ہے جس کی وجہ سے حکومت میں اعتماد میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ جب جون میں 17 سال جنگ کے بعد جنگ بندی کے بعد امن کی جھلک دکھائی دی تھی۔

نام ظایر نہ کرنے کی شرط پر کابل میں ایک وزیر کا کہنا تھا کہ ’ طالبان جانتے ہیں کہ ہمارے اعلیٰ افسران کانفرنس روم میں لڑنے اور میدان میں موجود افواج کو مختلف سنگنلز بھیجنے میں مصروف ہیں۔اس کی وجہ سے وہ شہروں اور دیہاتوں پر قبضہ کرنے کے ہر موقع میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔‘

ویس برمک کی تنقید کے جواب میں مرادی کا کہنا تھا کہ ’ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وزارت داخلہ میں کوئی ہماری بات نہیں سنتا۔‘ ویس برمک نے تنقید کی تھی وہ 21 اگست کو کابل میں صدارتی محل کے قریب ہونے والے حملوں کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے۔

سنگین اختلافات

سیکیورٹی عہدیداران کے درمیان الزامات اتحاد اور تعاون کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔اس وجہ سے حکومت کو بارہا طالبان اور دیگر جنگجو گروہوں کے خلاف لڑائی میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

رواں سال طالبان جنگجووں اور افغان فورسزکے درمیان ہونے والی جھڑپوں اور کابل سمیت یگر بڑے شہروں میں ہونے والے خودکش حملوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان سیکیورٹی کی نازک ترین صورتحال سے گزررہا ہے۔

گزشتہ مہینے، عیدالاضحیٰ کے موقع پر طالبان نے افغان صدر کی جنگ بندی کی پیشکش مسترد کی تھی۔

قومی سلامتی کے مشیر اتمر کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومتی رہنماؤں سے پالیسی اور دیگر اصولوں پر سنگین اختلافات کی وجہ سے استعفی دیا تھا۔

صدر اشرف غنی کے معاون کہنا تھا کہ انہوں نے گورنر غزنی کو خبردار کیا تھا کہ غزنی کابل کو افغانستان کے جنوبی حصے سے ملانے والے راستے پر واقع ہے جسے مضبوط بنانے کی ضرورت تھی کیونکہ وہ ہائی وے خصوصی طور پر خطرناک تھا۔

انہوں نے بتایا کہ صدر اشرف غنی نے انہیں اضافی دستے بھیجنے سے پہلے ایک تجویز بھیجنے کا کہا تھا، جس سے حنیف اتمر کو مایوسی ہوئی کیونکہ وہ فوری طور پر عہدے سے ہٹنا چاہتے تھے۔

صدر کے معاون کا کہنا تھا کہ حنیف اتمر کا استعفیٰ ان کے آئندہ انتخابات میں متوقع امیدوار ہونے کے علاوہ ایک سیاسی مصیبت تھا۔

اشرف غنی نے اقوام متحدہ کے سابق سفیر35 سالہ حمداللہ موہب کوقومی سلامتی کامشیر تعینات کیا ہے۔ حمداللہ مویب کو صدر اشرف غنی کا حمایتی اور وفادار سمجھاجاتا ہے۔

اشرف غنی سے وفاداری اور تجربے کی کمی پر انہیں تنقید اور عہدے سے متعلق چیلنج کا سامنا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار ہارون میر کاکہنا تھا کہ ’موہب کو اندرونی تنازعات حل کرنے اور نئے اقدامات متعارف کروانے چاہئیں کیونکہ حکومت کی کمزوری میں طالبان کی قوت ہے۔‘

طالبان افغان حکومت میں عدم اتحاد کا مذاق بناچکے ہیں جس سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ برس متعارف کی گئی امریکی صدر کی حکمت عملی اپنانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ فضائی حملے اور افغان آرمی میں مزید نفری بھیج کر طالبان کو مجبور کریں گے کہ وہ مذاکرات کرنے پر راضی ہوجائیں۔

جنگجوؤں کے حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دشمنوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے اور افغان حکومت کرپشن،سیاسی و سیکیورٹی عدم استحکام سمیت کسی بھی مسئلے پر کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔‘