- الإعلانات -

ہتھیاروں کی خریداری کے لیے فلپائن کے صدر کا دورہ اسرائیل

فلپائن کے صدر روڈ ریگو ڈیوٹارٹے امریکا کے علاوہ دیگر ممالک سے ہتھیار خریدنے کا اراداہ کرلیا جس کے لیے وہ اسرائیل اور اردن کا دورہ کرنے جارہے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق روڈریگو ڈیوٹارٹے ملک کی 60 سالہ تاریخ میں پہلے فلپائنی صدر ہیں جو اسرائیل کا 4 روزہ دورہ کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور فلپائن کے سفارتی تعلقات اس وقت سے قائم ہیں جب جرمنی میں ہولوکاسٹ کے وقت فلپائن نے یہودیوں کو پناہ دی تھی۔

فلپائن کے صدر اپنے دورے کے دوران اسرائیل کے صدر بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے اور اسرائیل میں کام کرنے والے ہزاروں فلپائنی مہاجرین سے ملاقات کے لیے ایک تقریب کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’یہ دورہ ہمارے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے، جو لوگوں کے درمیان مضبوط تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے’۔

فلپائن کے صدر چین اور روس کے ساتھ امریکا کے علاوہ سفارتی اور کاروباری تعلقات کو بہتر بنارہے ہیں۔

خیال رہے کہ فلپائن کے صدر کی جانب سے اسرائیل اور فلسطین تنازع کے حل کی حمایت کا بھی اعلان کیا گیا تھا، گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’ہم اپنے آئین اور قانون کے ساتھ ساتھ 2 ریاستی حل کے لیے بین الاقوامی کوششوں اور اقدامات سے مدد لیں گے’۔

یونیورسٹی آف فلپائنز میں بین الاقوامی تعلقات کے ماہر نے بتایا کہ ’صدر کا یہ دورہ مسلح افواج اور پولیس کے لیے ہتھیاروں کی متبادل مارکیٹ کے حصول کے لیے ہے’۔

فلپائن کے صدر کا دورہ ان کے متنازع بیانات کی وجہ سے بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

انہوں نے اپنے گزشتہ بیانات میں ہٹلر سے موازنہ کیا تھا جبکہ دوسری جانب منشایت کے خلاف کریک ڈاؤن کے باعث بھی انہیں متنازع سمجھا جاتا ہے۔

فلپائن میں منشیات کے خلاف جاری جنگ کے باعث امریکا اور کینیڈا نے ہتھیاروں سے متعلق معاہدے ختم کردیے تاہم اسرائیل کے ساتھ اس سلسلے میں تعاون جاری ہے۔

خیال رہے کہ فلپائن نے گزشتہ برس بھی اسرائیل سے 21 کروڑ ڈالر لاگت کے اینٹی ٹینک آلات خریدے تھے۔

اسرائیل کے دورے کے بعد فلپائنی صدر 5 ستمبر کو اردن کے دورے پر روانہ ہوں گے جہاں وہ شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کریں گے۔

یاد رہے کہ اسرائیل کا شمار دنیا کے صف اول کے ہتھیاروں کے ڈیلرز کے طور پر ہوتا ہے، اسرائیلی وزارت دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل اپنے دفاعی ساز و سامان کی برآمدات کا 60 فیصد حصہ ایشیا پیسیفک کے علاقے میں ارسال کرتا ہے۔