- الإعلانات -

بھارتی ایجنسیاں خاندان کے افراد کو نشانہ بنارہی ہیں، سید صلاح الدین

کشمیری حریت رہنما سید صلاح الدین نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا کے خلاف جاری آزادی کی تحریک سے انہیں دستبردار ہونے پر مجبور کرنے کے لیے بھارتی ایجنسیاں ان کے خاندان کو نشانہ بنارہی ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح جدوجہد کرنے والی تنظیم حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین کا بیان اس واقعے کے بعد سامنے آیا، جب بھارتی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے جمعرات (30 اگست) کی شب ان کے بیٹے سید شکیل احمد کو گرفتار کیا۔

سید صلاح الدین کے صاحبزادے کو فنڈنگ کیس میں ملزم نامزد کرکے سری نگر کے علاقے رام باغ میں واقع رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا، وہ سری نگر میں بطور لیب ٹیکنیشن کام کررہے تھے۔

بعد ازاں سیکیورٹی اداروں نے شکیل احمد کو نئی دہلی میں واقع تیہار جیل میں منتقل کردیا۔

گزشتہ سال اکتوبر میں این آئی اے نے احمد کے بڑے بھائی سید شاہد یوسف کو بھی مذکورہ کیس میں گرفتار کیا تھا اور وہ تاحال تیہار جیل میں قید ہیں، وہ شعبہ زراعت کے ملازم تھے۔

صلاح الدین نے یہ واضح کیا کہ ان کے بچوں اور خاندان کے افراد سے بدلہ لے کر اور ان کی آزادی کی تحریک کو داغ دار کرکے کشمیریوں کو بھارتی غلامی سے آزاد کروانے کی ان کی جدوجہد کے عزم کو کم نہیں کیا جاسکتا۔

صلاح الدین نے بتایا کہ گزشتہ 3 دہائیوں سے وہ اپنے خاندان سے دور تھے اور پوری کشمیری قوم اس بات سے آگاہ ہے کہ جدوجہدِ آزادی کے مالیاتی معاملات میں ان کا خاندان کبھی بھی ملوث نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ’اللہ کا شکر ہے کہ میرے ہاتھ بالکل صاف ہیں لیکن بھارتی ایجنسیوں کی مرتب کردہ مہم قابل مذمت ہے‘۔

حزب المجاہدین کے چیف نے کشمیر بار ایسوسی ایشن اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے سرگرم سماجی کارکنان سے اپیل کی کہ وہ 30 سال قبل خریدی گئی ان کے بچوں کی جائیداد سے متعلق آزادانہ اور غیر جانبدار تحقیقات کریں اور حقائق منظر عام پر لائیں۔

انہوں نے اصرار کیا کہ ’بار ایسوسی ایشن اور سول سوسائٹی کو قوم کے سامنے حقائق بیان کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے’۔

صلاح الدین نے اپنا مؤقف برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جو اللہ کے احکامات کے پابند رہے اور کشمیر کی آزادی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردیں وہ ان دنیاوی مفادات کو جہانِ فانی کی زندگی پر فوقیت نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ‘تاریخ پہلے ہی ایسے افراد کی حقیقت کو ثابت کرچکی ہے اور اللہ نے چاہا تو اب بھی ایسا ہی ہوگا‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس جون میں امریکی محکمہ خارجہ نے سید صلاح الدین کو خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔

پابندی عائد کیے جانے کے بعد کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا تھا اور احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔